بیجنگ: چین نے منگل کو جاپان سے کہا کہ وہ نسلاً ایغور لوگوں کے حقوق کے علمبردار جلاوطن گروہ کی سالانہ میٹنگ کی میزبانی نہ کرے۔
ورلڈ ایغور کانگرس (ڈبلیو یوسی) اکثر مسلمان نسلی گروہ کی نمائندگی کرتی ہے جو چین کے سرکش علاقے زن جینگ میں رہتے ہیں اور یہ اگلے مہینے ٹوکیو میں اپنی جنرل اسمبلی منعقد کر رہی ہے۔
“ہم نے جاپانی طرف سے وکالت کی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تنظیم کو چین کے ٹکڑے کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے جاپانی علاقہ استعمال کرنے سے روکے،” چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیو وئیمن نے کہا۔
“وہ (ڈبلیو یو سی) ایسی سرگرمیاں کرتے ہیں جو چین کی علاقائی سالمیت اور اقتدار اعلی کی بیخ کنی کرتی ہیں۔”
ڈبلیو یو سی کی میٹنگ 14 سے 17 مئی کے دوران منعقد ہو گی، جب “دنیا کے بیس ممالک سے چند سو نسلاً ایغور ٹوکیو میں جمع ہوں گے تاکہ حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند کر سکیں،” جاپان ایغور ایسوسی ایشن کے صدر الہام ماہموت نے اے ایف پی کو بتایا۔

اردو کی تاریخی کتب میں ویغور ہی لکھا ہوتا ہے۔ اور یہی اصل تلفظ سے قریب ہے۔
اردو وکی پیڈیا اسے اویغور لکھتا ہے۔ بحوالہ
انگریزی وکی پیڈیا پر اس کی اردو ایغور لکھی ہوئی ہے۔ بحوالہ
پنجابی وکی پیڈیا بھی اسے ایغور ہی لکھتا ہے۔ بحوالہ
ایغور نہیں، ویغور۔