ٹوکیو: سابق پیشہ ور پہلوان انتونیو انوکی، جو اب ایوانِ بالا کے ایک قانون ساز ہیں، کو پچھلے ہفتے شمالی کوریا کا بلا اجازت دورہ کرنے پر دائت کی جانب سے تادیبی کاروائی کا سامنا ہے۔
انوکی، جو اپوزیشن جاپان ریسٹوریشن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے 7 تا 13 نومبر شمالی کوریا کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان کھیل اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تھا اور انہوں نے وہاں موجودگی میں اپنی غیر سرکاری تنظیم کا ایک دفتر کھولا۔
سانکےئی شمبن کے مطابق، بدھ کو حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کی اتحادی نیو کومیتو پارٹی، ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان، یور پارٹی اور جاپانی کمیونسٹ پارٹی نے اینوکی کے خلاف ایک تحریکِ مذمت جمع کروائی۔
جاپان ریسٹوریشن پارٹی پہلے ہی اقدام اٹھا چکی ہے، اور انوکی کو 50 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔
سانکےئی شمبن کے مطابق، پچھلی مرتبہ ایوانِ بالا نے 1950 میں تادیبی تحریک منظور کی تھی۔
انوکی نے اپنے پہلوانی کے کیرئیر کے دوران کئی مرتبہ شمالی کوریا کا دورہ کیا ہے، تاہم قانون سازوں کو بیرونِ ملک دوروں کے لیے دائت کی منظوری درکار ہوتی ہے۔