حکومت کا ‘تسکین بخش خواتین’ کے معذرت نامے پر نظرِ ثانی پر غور

ٹوکیو: ایک اعلی اہلکار نے پیر کو کہا، جاپانی حکومت زمانہ جنگ میں جنسی غلامی کے نظام پر جاری کردہ ایک معذرت نامے پر نظرِ ثانی کرے گی۔ اگر اس تاریخی بیان میں تخفیف کی گئی تو یہ جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کے غیظ و غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔

“تسکین بخش خواتین” کے مہیا کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر 1993 میں اس وقت کے چیف کیبنٹ سیکرٹری یوہئے کونو نے بیان جاری کیا تھا۔ چیف کیبنٹ سیکرٹری یوشی ہیدے سُوگا نے پیر کو کہا کہ اس ثبوت کا جائزہ لیا جائے گا۔ جنگی چکلوں میں کام پر مجبور کی گئی عورتوں کو ذرا نرم الفاظ میں “تسکین بخش خواتین” کہا جاتا ہے۔

“تسکین بخش خواتین کے بیاناتِ حلفی بند دروازے کے پیچھے منعقدہ نشستوں میں لیے گئے تھے۔ حکومت جائزہ لے گی کہ جس اعتماد کے تحت یہ بیانات دئیے گئے۔ اسے ٹھیس پہنچائے بغیر ان پر نظرِ ثانی ہو سکتی ہے یا نہیں،” چیف کیبنٹ سیکرٹری یوشی ہیدے سُوگا نے کہا۔

1993 میں 16 کوریائی خواتین کے بیاناتِ حلفی سننے کے بعد اس وقت کے چیف کیبنٹ سیکرٹری یوہئے کونو کے نام سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔ اس میں خواتین کو جنسی غلامی پر مجبور کرنے کے لیے سرکاری ملی بھگت کا اعتراف کیا گیا۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔