غیر ملکی کارکنوں کی متنازعہ اسکیم میں توسیع کے لیے جاپانی اقدام

وکیو: جاپان ایک متنازعہ پروگرام میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت چین اور دیگر ممالک سے کارکنوں کو تین برس تک کے لیے پرمٹ دئیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا میں سب سے تیزی سے عمر رسیدہ ہونے والی قوم اپنی سکڑتی افرادی قوت میں پیدا شدہ خلا بھرنے کے لیے کوشاں ہے۔

وزیرِ اعظم شینزو آبے کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے ایک تجویز جمع کروائی ہے جس کے تحت کارکن پانچ برس تک ٹھہر سکیں گے۔ آجروں کے لیے کارکن بھرتی کرنے کے قوانین میں نرمی کی جائے گی اور ان کے لیے دستیاب ملازمتوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔

ایل ڈی پی کے قانون ساز یاسوہیسا شیوزاکی نے نامہ نگاروں کو بتایا، “ہم اس پروگرام کی نگرانی کو مضبوط بنائیں گے”۔ “ہم تحفظات سے آگاہ ہیں اور اہم نے اعتراضات رکھنے والے لوگوں کو اپنے اعتراضات کا اظہار کرنے کی اجازت دی۔”

نظری طور پر غیر ملکی کارکن جاپان میں تکنیکی ہنر حاصل کرنے کے لیے بطور ٹرینی آتے ہیں۔ تاہم وکلاء اور مزدوروں کے کارکن کہتے ہیں کہ بہت سے کارکنوں کو بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں غیر قانونی طور پر کم اجرت دی جاتی ہے اور کبھی پاسپورٹ بھی ضبط کر لیے جاتے ہیں۔

شوئچی ایبوسوکی ٹوکیو میں رہنے والے غیر ملکی کارکنوں کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجویز کردہ حفاظتی اقدامات کافی ثابت نہیں ہوں گے اور انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس پروگرام میں توسیع کی بجائے اسے ویسے ہی ختم کر دیا جائے۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔