کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں “ شیز مارے “ (2)

ہمارے قریبی دوستوں میں کچھ لوگ اسلامی جماعتوں کو پیارےہو چکےتھے۔ ان سے ” شیز مارے ” کی وجہ پوچھی جو کچھ سمجھ آئئ کچھ نہیں آئئ ۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی، مذہبی، لسانی، ،وردی والے بغیر وردی والے ” شیز مارے ” کی دوکانیں کھل گئیں۔ آج سیاسی سماجی، مذہبی ،لسانی رنگ برنگی ،” شیز مارے ” کی بہاریں ہیں، امن پر خزاں چھائی ہے۔ معیشت سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہے۔ اس سیاسی ،مذہبی “شیز مارے شیز مارے ” کے گھن چکر نے بھائی کو بھائی سے دوست کو دوست سے ، پڑوسی کو پڑوسی سے لڑوا دیا ہے۔ بردباری، رواداری، برداشت ختم ہوچکی ہے۔ مذہبی “شیز مارے شیز مارے نے اپنی اپنی نظریات کی مذہبی سلطنتیں بنانے ،ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے ،کی دوڑ میں ، 14کروڑ سے زائد عوام کو پینے کا صاف پانی ،کئی کروڑ عوام کو رہنے کے لیے چھتوں سے محروم کر دیا ہے۔ ان سیاسی مذہبی ،لسانی ” شیز مارے گروپ” کے ایک دوسرے کے خلاف آئے دن جلسے جلوس، ،ہڑتالوں ،دھرنوں کے کارن کاروبارتباہ ہوگئے، بےروزگاری میں اضافہ کے سبب نوجوانوں میں منیشات کے استعمال اور جرائم میں بے تحاشہ اضافہ ، عوام اعصابی امراض کا شکار ہو چکی ہے۔ سیاسی، مذہبی رنگیلوں کا عیار طبقہ کمال ہوشیاری سے حقائق سے دور کتابوں میں بے شمار دیو ما لائی داستانیں سنا سنا کر عوام الناس کو “تسنیم ” سے ملنے والے خواب دیکھا کر، انھیں اس زمین پر سب سے بڑی قوم کے احساس برتری کی خوش فہم گولیاں کھلاکر چندہ، خیرات ،ہدیہ ،ووٹ ،بٹور بٹور کر اپنی اپنی سلطنتیں بناتا رہا۔ جہاں ان سیاسی مذہبی رنگیلوں کے حجرے ،مدرسوں اور عالی شان سلطنتوں میں چندہ،خیرات، ہدیہ اور کرپشن کے بل پر خریدے گئے جنریٹروں سے جگمگاتے طاقتور بجلی کے قمقموں میں جب ایک ہجوم ان کی جاہلانہ خطابت، دلائل سے خالی عقل سے پیدل مثالوں حوالوں پر سبحان اللہ ،ماشاء اللہ کہہ کہہ کر ان کی اوقات سے بھی زیادہ ہمنوائی کر رہا تھا۔ وہاں دوسری طرف ان قبضہ گروپ ، مفت خور طبقے کے دیس کی یہ حالت تھی۔ کہ بجلی نہ ہونے کے سبب کاروبار تباہ ہورہے تھے، بجلی کی بندش کے سبب صنعت کار اپنے اپنے کارخانے ،کاروبار دوسرے ممالک میں منتقل کر رہے تھے ، عورتوں کے حقوق دلوانے کے دعویداروں کے دعووں کی قلعی اس طرح کھل رہی تھی کہ قبائلی جھگڑوں میں تیرہ تیرہ لڑکیاں ونی میں دے دی جارہی تھیں۔ پانچ پانچ عورتیں زندہ درگور کی جارہی تھیں ، تین تین ،چار چار سال کی بچیاں بھی جنسی زیادتی سے محفوظ نہیں تھیں، تعلیمی اداروں،سرکاری و غیر سرکاری اداروں ، جیلوں میں بھی خواتین محفوظ نہیں تھیں۔ خواتین کو بازار جانے پر ان کے منہ اور جسموں پر تیزاب ،یا کیمیکل پھینک کر انھیں زندگی بھر کے لیے معذور بنا یا جارہا تھا۔ ہر تین میں سے ایک لڑکی کسی نہ کسی حوالے سے جنسی تشدد کا شکار ہورہی تھی۔ پچاس فیصد خواتین و بچے ناقص خوراک یا غذاکی کمی کا شکار ۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے 35 فیصد بچے خوراک کی کمی کی وجہ سے مر رہے تھے۔آج بھی بے روز گاری، کاروباری ، بندش ،ماحولیاتی فرسٹیشن ، مایوسی، سے عاجز ہو کر روز بروز منیشات کے شکار افراد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دس فیصد ابادی ہیپا ٹائٹس کا شکار ہے جن میں سے زیادہ تر کو ہیپا ٹاءٹس “بی ” اور “سی” ہے جو جان لیوا مرض ہے۔ گندے پانی پینے اور ناقص خوراک کھانے سے ہپاٹائٹس “اے ” کے مریضوں میں کوئی کمی دیکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔پچیس سے تیس فیصد اموات آج بھی معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں پچاس فیصد غریب عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات تو درکنار ان کو ان کی گنجائش سے بھی زیادہ مہنگی ملنے والی دوائیوں پر بھی “خطرہ ” کا نشان ہے۔ دل کے امراض کے لیے دوا میں ملاوٹ کے وجہ سے ایک سو انیس افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔۔ایک کروڑ سے زائد افراد قحط زدہ ہیں۔پچھتر فیصد بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ جن مذہبی لوریوں کو دے کر قوم کو سلانے کی کوشش کی گئی۔ جاگتے ذہنوں کو ” شیزمارے شیزمارے ” کہہ کر مخصو ص نشان دیکھا دیکھا کر بلیک میل کیا گیا۔ اس نوے فیصد لوگوں کی سر زمین پر جہاں ہر چالیس گز پر ایک مسجد ،مدرسہ، مقبرہ مزار ہے وہاں رمضان میں کئی لوگوں کو ٹارگٹ کر کر کے جان سے مار دیا جاتا ہے۔ رمضان کی تراویحوں میں نمازیوں کی تعداد جان بچانے کے لیے گھروں ، سے نہیں نکلتی۔ فجر کی نماز پڑھنے کے لیے جانے والے کسی نہ کسی سیاسی، لسانی، مذہبی ” شیزمارے گروپ ” کا نشانہ بن جاتےہیں۔ ماں اپنے بچوں کو عید کے کپڑے نہ دلوانے کے سبب بچوں سمیت خود کشی کر لیتی ہے۔ حلیمہ رفیق انصاف نہ ملنے پر رمضان میں تیزاب پی کر خود کشی کرلیتی ہے،  جہاں اپنے سے الگ مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے ،کو بسوں سے اتار کر جان سے مار دیا جاتا ہے، عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی جاتی ہے۔کراچی میں لسانی بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر چن چن کر بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ کسی ذہنی مریض کو بھی توہین کا الزام لگا کر کئی کئی سو مذہبی درندے غول کا غول بنا کر پولیس سے چھین کر لے جاتے ہیں اس کو بے دردی سے مار کر زندہ جلا دیتے ہیں ۔ مذہبی احساس برتری میں مبتلا مذہبی مریضوں کا ٹولہ جھوٹے سچے الزامات پر بغیر تحقیق کیے دو ہزار چودہ میں بھی عیسائی شادی شدہ جوڑے کو بھٹی میں ڈال کر زندہ جلا دیتا ہے۔ کسی نہ کسی حیلےبہانے سے اپنے ہی ملک میں رہنے والے ہم وطن ہم زبان پاکستانی عیسائی بھائیوں کے گھروں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ ان کی جوان لڑکیاں اغوا کر لی جاتی ہیں۔ پانچ پانچ ہزار ہندو پاکستانی مجبور ہوکر ملک چھوڑ رہے ہیں۔ مذہبی برتری کے احساس میں مبتلا ان بے حس جنونیوں سے غیر مسلموں کو کیا عافیت نصیب ہوگی۔ یہ اپنے ہم کلمہ ہم مذہب بھائیوں کو ان کی امام بارگاہوں، مسجدوں، مقبروں ،جنازوں ،مدرسوں، اسکولوں میں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ کئی دن مرے ہوئے انسان کو قبر سے نکال کر اس کی لاش لٹکا دیتے ہیں اور پھر اس کی لاش کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ ان کی درندگی اور مردانگی کا یہ عالم ہے کہ یہ خواتین کو زندہ جلا دیتے ہیں، معصوم بچوں کو ‘ نعرہ تکبیر اللہ اکبر’ کی نعروں میں بے دردی سے شہید کر دیتے ہیں اور مذہبی احساس برتری میں مبتلا یہ نفسیاتی مذہبی مریض اس انسانیت سوز سلوک کرنے پر اس کی ذمداری قبول کر لیتے ہیں آئندہ اس سے بھی زیادہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔ مذہب کے نام پر آج وطن عزیزمیں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں انسانوں نے بھیڑیوں کا روپ دھارلیا ہے۔ یہ مذہبی بھیڑیوں کے غول ہیں جو کمزور اور نہتے انسانوں پر چڑھ دوڑے ہیں، ان کی اپنی اپنی مذہبی یونی فارم ہے۔ اپنی اپنی مخصوص زبانیں، اپنی اپنی مذہبی ٹول کٹ، لیکن ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے وہ ڈبیا پر بنا ہوا نشان۔ ان کے بارے میں تحقیقات تو دور اب تو بات کرنے کے لیے بے وقوف کا دل اور پاگل کا دماغ چاہیے، اور جس کو ہو جان و دل عزیز وہ ان کی گلی میں جائے کیوں۔ یہ مذہبی مریض تمام جہان کے لیے اب “فتنہ ” ہیں یہ نائجیریا میں ہوں تو “” شیزمارے شیزمارے ” کہہ کر مخصوص نشان کے بل پر گاوں کےگا وں اجاڑ دیتے ہیں۔ یہ جب چاہیں مخصوص نشان رکھنے کے زعم میں سرعام کسی کی بھی گردن پر چھری چلا دینے کا حق رکھتے ہیں ۔یہ تین تین سو بچیوں کو کھلم کھلا اغوا کر لیتے ہیں۔ اپنی ذلالت پر شرمندہ ہونے کے بجائے یہ بابانگ دہل کہتے ہیں کہ ۔ ” یہ اللہ کا حکم ہے کہ ان بچیوں کو بیچ دیا جائے۔جو کچھ کررہے ہیں اس کی ان کے پاس خدا کے پاس سے خصو صی اجازت ہے” ۔ یہ نیروبی میں ہوں تو کسی بھی شاپنگ مال پر دندناتے ہوئے گھس جاتے ہیں۔ نہتے معصوم انسانوں کو یرغمال بنا کر اپنے مذہب کے علاوہ ہر فرد کی جان مال عزت کو روندنا پامال کرنا اپنے فرض اولین سمجھتے ہیں۔ یہ برمنگھم میں ہوں گے تو خنجر چھپا کر مسجد میں داخل ہو جایں گے اور نمازیوں پر صرف اس لیے حملہ کردیں گے کہ وہ ان کے طریقے کے مطابق نماز نہیں پڑھ رہے تھےانکی معیاری مذہبی تعلیم کا اثر یہ ہے کہ یہ جس زمین پر رہیں گے وہاں پر قبضہ گروپ بن کررہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے ہی ملک کے آئین ، اور وہاں کی عدالتوں کا احترام کرنا ان کو تسلیم کرنا اپنی اور اپنے مذہب کی توہین سمجھتے ہیں،ان کے اپنے پسندیدہ قانون ہیں جس کو نافذ کر کے دوبارہ پتھروں سے استنجاہ کرنے، نہانے کے نام پر مٹی میں لوٹنے ،بغیر نہائے بو مارتے غلاموں ،لونڈیوں کے جھرمٹ میں خود کو دیکھنے کی آرزو میں جی رہے ہوتے ہیں، یہ کبھی بھی پر امن نہیں ہوتے ،یہ مطلبی موقع شناس مذہبی مریض پرامن رہنے کی صرف اداکاری کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ مہذہب معاشروں میں رہتے ہوئے بھی عجیب و غریب حلیوں میں خود ساختہ مذہبی اشتہار بنے مذہب کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں،ان کے ذہین ترین لوگ انسانی ضروریات کے لیے ایجادات نہیں بلکہ کافر بنانے ،غلام لونڈیاں کشید کرنے کے طریقے پر سر کھپا رہے ہوتے ہیں اور ہمارے جیسے کم علم لوگ ان کی بے وقوفانہ خطاب اور مذہبی گلو گاریوں ، اداکاریوں پر واہ واہ،سبحان اللہ ، ماشاء اللہ،کہہ کہہ کر ان کے جاہلانہ حوصلوں کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے مخصوص عجیب و غریب حلیے کو اگر کوئی ان کا ہم کلمہ ہم مذہب قبول نہ کرے تو اسے بھی زمین ہر ان کے ساتھ رہنے کا حق نہیں ہوتا ۔کسی شاعر نے خوب کہا تھا
” یہ کیسی فقر و استغنا کی صورت ہے معاذ اللہ ۔۔کہ پوری قوم کی صورت ہی پہچانی نہیں جاتی ۔
اس جاپان میں بھی چند ایک مذہبی گلو کار، بزعم خودعلامہ،شاگردرشید فلاں بن فلاں کہلانے والی شخصیات کو دور و قریب سے دیکھنے سننے کا موقع ملا تو محسوس ہوتا تھا کہ انہیں کسی عبادت گاہ کی نہیں کسی نفسیاتی ڈاکٹر کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ چرب زبان رنگیلے اپنی اپنی سلطنتوں میں کنڈلی مارے انسانیت ،امن اور حقوق نسواں پربہترین مکالمے ادا کرتے نظر آئیں گے۔ لیکن جب ان نیچے ڈانگ پھیری جائے تو وہ وہ ظالما نہ کرامات ملیں گی کہ انسانیت کے پاس ان کو گالی دینے کے لیے دنیا کی کسی لغت میں الفاط نہیں ملیں گے۔ وہ الفاط جو ان کے گھٹیا کردار پر پورے اتریں۔ وہ الفاظ جن سے کم از کم ہمارے جیسے کمزور، کم علم انسانوں کو ان کے خلاف اپنے دل کا بوجھ ہی ہلکا کرنے کا سبب بن سکے۔ ہماری لغت کی تمام گالیاں انسانوں کے لیے ہیں۔ یہ وہ مذہبی سفاری پار ک کی بیمار مخلوقیں ہیں جو جب چاہیں وفاداری غداری میں تبدیل کر لیں ان کو کوئی خاص ہدایت آتی ہے۔ کوئی چیز ہے جو ان کی تعلیم میں انسانیت کے لیے ، امن کے لیے، دیمک کا کام کر رہی ہے۔ لیکن تمام ظلم و بربریت دیکھ کر سن کر ہم جیسے کم علم عوام کو مقدس دھمکیاں دے کر کہا جاتا ہے کہ ” شیزمارے کونو مونو مے نی ہارا نائی نوکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 comment for “کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں “ شیز مارے “ (2)

  1. March 17, 2015 at 07:46

    these things are so common in our society, it should be stop, and its always from from our leadership

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔