جاپان کی زنانہ اولمپک جوڈو کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ان کے کوچ انہیں مارتے ہیں

ٹوکیو: اہلکاروں نے بدھ کو کہا کہ جاپان کی زنانہ اولمپک جوڈو ایتھلیٹس کو ان کے کوچوں نے بانس کی تلواروں سے پیٹا اور تھپڑ مارے۔

جوڈو کی 15 زنانہ کھلاڑیوں پر مشتمل ایک گروپ نے جاپانی اولمپک کمیٹی (جے او سی) کو پچھلے ماہ شکایت جمع کروائی تھی کہ انہیں ٹیم کے ہیڈ کوچ ریوجی سونودا نے جسمانی سزا کا نشانہ بنایا تھا۔

اونوزاوا نے ٹوکیو میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا، “ہم نے معلومات وصول کی ہیں کہ زنانہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مسٹر سونودا شاید ایتھلیٹس کو جسمانی طور پر دھمکاتے رہے ہیں”۔

جب پوچھا گیا کہ آیا اے جے جے ایف کا سونودا کو ہیڈ کوچ برقرار رکھنے کا فیصلہ درست تھا، تو ایچی ہارا نے کہا: “ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ایتھلیٹس اور کوچوں کے مابین اعتماد اب بھی موجود ہے یا نہیں یا اس اعتماد کی تعمیرِ نو کا کوئی طریقہ کار ہے یا نہیں”، اور مزید کہا کہ اے جے جے ایف کے پاس کوچوں کی تعیناتی کا اختیار ہے۔

1947 سے چلے آنے والے ایک قانون کے تحت اساتذہ کو اپنے ماتحت طلباء وغیرہ کو جسمانی طور پر سزا دینے کا اختیار نہیں۔

“تاہم اب بھی کچھ ایسے کوچ موجود ہیں جنہیں ان کی جوانی میں جسمانی سزا دی گئی تھی اور جو بظاہر پرانے طریقہ کار پر یقین رکھتے ہیں۔”

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔