کمپیوٹر فائلوں سے ظاہر ہوتا ہے متعاقب نے قتل کی منصوبہ بندی کی، پولیس

ٹوکیو: پولیس نے چارلس تھامس ایکے ناگا کے کیس کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں جس نے  اس ماہ کے اوائل میں 18 سالہ سابق گرل فرینڈ سایا سوزوکی کو میتاکا، ٹوکیو میں اس کے گھر میں تعاقب کر کے قتل کر دیا تھا۔

ہائی اسکول کی طالبہ کی موت کے بعد یہ پتا چلا تھا کہ ایکے ناگا نے سوزوکی کو موت کی دھمکیاں بھیجی تھیں اور یہ کہ وہ پولیس سے مشورے کی طلبگار ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی کمپیوٹر فائل میں حساب کتاب موجود تھا جو خیال کے مطابق قتل کے لیے چیزوں کا الگ الگ بجٹ تھا، جن میں ایکے ناگا کے آبائی شہر کیوتو سے ٹوکیو، جہاں قتل واقع ہوا، تک کے سفر کے اخراجات بھی شامل تھے۔ پولیس نے کہا سوزوکی کو (حملے کے بعد) ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں بعد میں وہ خون کے زیاں کے باعث ہلاک ہو گئی۔

نیشنل پولیس ایجنسی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ نظام کی غیر عملیت اور انتباہات سے وابستہ خطرات –جو کچھ ماہرین کے مطابق متعاقب کو مزید مشتعل کر دیتے ہیں — کے پیشِ نظر انسدادِ تعاقب کی قانون سازی مزید مضبوط کرے اور پولیس کو متعاقبین کے خلاف فوری ایکشن لینے کی اجازت دے۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.