جاپان کی صارفی قیمتیں مسلسل چوتھے ماہ بلند

ٹوکیو: جمعے کو حکومتی ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ جاپان کی تفریطِ زر زدہ مرکزی صارفی قیمتیں توانائی کی بڑی لاگتوں کی وجہ سے سال بہ سال بنیادوں پر ستمبر میں مسلسل چوتھے ماہ بلند ہو گئیں۔

وزارتِ امورِ داخلہ کے مطابق، صارفی قیمتوں کا اشاریہ، جو روز مردہ کی ٹوکری بھر اشیاء کو ناپتا ہے تاہم اس میں تازہ خوراک کی طیران پذیر قیمتیں شامل نہیں ہوتیں، ایک برس قبل کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ تھا۔

یہ اضافہ منڈی کی توقعات کے عین مطابق تھا اور اگست کے 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ مطابقت میں تھا، جو نومبر 2008 کے بعد سے سب سے بڑا ماہانہ اضافہ تھا۔

ڈیٹا سے پتا چلا، ستمبر میں بجلی کے بل سالانہ بنیادوں پر 7.6 فیصد بڑھ گئے جبکہ آٹو موبائل سے متعلقہ اخراجات بھی پٹرول کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے 4.3 فیصد بڑھ گئے۔

تازہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں کو نکالیں تو صارفی قیمتیں ستمبر میں سپاٹ رہیں۔

قدامت پسند رہنما (شینزو آبے) نے ایک پالیسی یلغار، جسے “آبے نامکس” کا نام دیا جاتا ہے، کے ذریعے جاپان کو 15 برس طویل تفریطِ زر سے نکالنے، قیمتیں اور اجرتیں بڑھانے اور معیشت کو پھر سے حرکت میں لانے کا عہد کر رکھا ہے۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔