فتنہ رسم زیر چاند دکھائی (2) ، تحریر ظہیر دانش ۔

محمد ظہیر دانش

محمد ظہیر دانش

ظہیر دانش : امام بیہقی نے بروایت ابن اسحقٰ نقل کیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے (سقیفہ بنی ساعدہ کے دن ) یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ بات کسی طرح درست نہیں کہ مسلمانوں کے دو امیر ہوں، کیوں کہ جب کبھی ایسا ہوگا ان کے احکام و معاملات میں اختلاف رونما ہوجائے گاا، ان کی جماعت تفرقہ کا شکار ہوجائے گی اور ان کے درمیان جھگڑے پیدا ہوجائیں گے۔ اس وقت سُنت ترک کر دی جائے گی، بدعت ظاہر ہوگی اور عظیم فتنہ برپا ہوگا اور اس حالت میں کسی کے لیے بھی خیر و صلاح نہیں ہوگی۔ “
جاپان رویت ہلال کمیٹی (جس کے چیئر مین سلیم الرحما ن خان ندوی اور جنرل سیکر یٹری عقیل صدیقی صاحب ہیں) کی جانب سے ایباراکی پریفکچر میں قا ئم ایک مذہبی ادارے میں عید الفطر کے چاند دیکھنے کے لیے ایک نشست رکھی گئی تھی اس نشست میں مختلف معزز صاحبان کے ساتھ مختلف مساجد میں امامت کے فرائض ادا کرنے والے عابد حسین شاہ صاحب بھی بہ نفس و نفیس موجود تھے ۔ جس وقت سلیم الرحمان صاحب نے ملائشیا میں چاند دیکھنے کی اطلاع پر عید الفطر کا اعلان کیا تو وہاں موجود عابد حسین شاہ صاحب نے رویت ہلال کمیٹی ٹوکیو کے اعلان پر اعتراض کیا کہ ان کا چاند دیکھنے کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔ عابد شاہ رمضان کے آخری عشرے میں سلیم الرحمان صاحب سے چاند دیکھنے سے متعلق جو طریقہ کار عرصہ درارز سے اپنا یا جارہا ہے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے تھے اور ایک مرتبہ پھر جب سلیم الرحمان صاحب نے ملائشیا کی گواہی پر چاند دیکھنے کا اعلان کیا تو عابد شاہ صاحب نے پھر اپنے تحفظات کا اظہار کیا لیکن عابد شاہ صاحب کی بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ۔ بلکہ وہاں موجود چند مخصوص لوگوں نے دھونس دھمکی سے انھیں خاموش کرنے والا وہی روائتی سلوک کیا جو کہ ہمارا طرہ امتیاز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ایباراکی پریفکچر میں جہاں جاپان کے ہر پریفکچر سے زائد مساجد ہیں اس پریفکچر کے شہر کوگا میں ایک اور رویت ہلال کمیٹی کا قیام عمل میں آگیا اور رویت ہلال کمیٹی ایباراکی پریفکچر کے چیئر مین علی حسن صاحب قرار پائے۔ راقم کو دونوں طرف کے انتہائی معزز اور قابل احترام شخصیات سے اس سلسلے میں گفتگو کرنے کا شرف حاصل ہوا دوران گفتگو محترم شخصیات سے یہی عرض کیا کہ وہ اس مسئلہ کا کوئی پرامن حل تلاش کریں ان محترم شخصیات سے میں علم میں بھی کم ہوں اور ظاہری عبادات میں بھی اس لیے حد ادب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چاند سے متعلق معلومات پر ہی اکتفا کیا ۔ دونوں طرف کی گفتگو سننے کے بعد بہت سی ٹیکنکل معلومات ہوئیں۔ دونوں طرف اپنی بات کو سمجھانے کے لیے مذہبی ٹول کٹ میں تمام مقدس اوزار وافر مقدار میں موجود ہیں۔دونوں پارٹیاں اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کی صلاحتوں سے مالا مال ہیں۔ایک طرف ٹوکیو رویت ہلال کمیٹی کا بذریعہ ملائشیا چاند دیکھنے کا طریقہ کار اور اس کا اعلان ہے تو دوسری طرف جاپان میں ننگی آنکھ سے چاند دیکھنے کے دعویدار وں سمیت سلیم الرحمان صاحب کے ملائشیا برانڈ چاند دیکھ نے پر اعتراض ہے ۔ ننگی آنکھ سے چاند دیکھنے کے دعویداروں میں صحافی برادری کی طرف سے تھویاماکین کے محترم طاہر حسین ، تھویاما مسجد کمیٹی کے صدر ندیم خان ، سماجی تنظیم کی طرف سے ملک ممتاز ، چیبا کین کے علاوہ ایباراکی کین سے محترم طارق میمن صاحب اور دوسرے افراد شامل ہیں۔اور اب تو رویت ہلال کے متنازعہ مسئلہ پر ملائشین پرائم منسٹر سیکریٹریٹ کے تحت کام کرنے والے ملائشیا کے سب سے زیادہ مستحکم و مضبوط اسلامی دینی ادارے (جیکم ) کے عہدیداروں کے ساتھ ملائشیا کی رویت ہلال کے فلکیاتی ادارے فلک کے پروفیسر محمد زمبری زین الدین اور اسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ذاکوا کے ساتھ عابد حسین شاہ صاحب اور علی حسن صاحب کی بلمشافہ ملاقات اور دو گھنٹے سے زائد طویل اجلاس (3دسمبر ؁2013 ء ) کی روداد بھی شامل ہے۔ بقول عابد شاہ صاحب ” ملائشین فلکیاتی ادارے نے عابد شاہ صاحب اور ان کی ٹیم کی چاند دیکھنےکے طریقہ کار اور اس کے متعلق تحقیقات کو درست قرار دیا۔ بلکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر زمبری زین الدین نے کہا کہ ملائشیا ، سنگاپور ، اور برونائی کے خاص موسمی حالات کی وجہ سے یہاں اکثر چاند نظر نہ آنے کی بنا پر ایک حسابی طریقہ وضع کیا گیا ہے جو مذکورہ ممالک کے لیے تو حجت ہو سکتا ہے مگر کسی اور ملک جس کے موسمی حالات یہاں سے مختلف ہوں اس کے لیے تو حجت نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر زمبری نے کہا کہ ملائشیا اور جاپان کا عرض بلد بہت مختلف ہے جبکہ پاکستان و جاپان کا عرض بلد ایک ہے جسکی وجہ سے اگر جاپان میں کسی وجہ سے چاند نظر نہ آتا ہو تو جاپان کے مسلمانوں کو پاکستان کو فالو کرنا چاہیے نہ کہ ملائشیا کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہمیں فالو کیا جائے اگر کوئی ہمیں فالو کرتا ہے تو وہ اس کا خود ذمہ دار ہوگا۔ عابد شاہ صاحب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اپنے دوروزہ دورے کے دوران کولالمپور سے 90 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع پورٹ ڈکسن آبزرویٹری میں چاند دیکھنے کے عمل کا مشاہدہ بھی کیا اور سیر حاصل معلومات بھی اکھٹا کیں ہیں جو کہ عابد شاہ صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ فروری ؁2014 ء میں پریس کانفرنس کے دوران عوام الناس کو بتائیں گے۔ (بشکریہ عابد شاہ صاحب)
اگر چاند دیکھنے کے طریقہ کار میں واقعی کوئی اختلاف ہے تو اہل علم آپس میں بیٹھ کر سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور و فکر کریں اور اس کا کوئی مثبت حل تلا ش کریں۔یہ کون سا طریقہ ہے کہ اپنی خو د ساختہ کمیٹیاں بنا کر مذہبی ٹول کِٹ کے ذریعے ہم جیسے کم علم لوگوں کے عقیدہ یا اعتماد پر طبع آزمائی کی جائے۔ اگر ٹوکیو رویت ہال کمیٹی کا بذریعہ ملائشیا چاند دیکھنے کا طریقہ درست نہیں ۔ یا خدا نخواستہ عابد شاہ صاحب اور علی حسن صاحب کے رویت ہلا ل سے متعلق تحفظات غلط ہیں ۔ تو پھر ان لوگوں کو اس طرح غیر رجسٹرڈ مہریں لگا لگا کر عیدین کی نمازوں کے اعلانات کے لیے کیوں کھلی چھٹی دی جارہی ہے۔ جو کہ ناصرف جاپان میں بلکہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے۔ کیا اس طرح ہمارے مذہبی بزرگ یا اہل علم خاموشی اختیار کر کے آنے والے کل کے لیے ایک نئے فساد کی بنیاد نہیں رکھ رہے۔۔؟ کیا اس سے یہ تاثر نہیں جاتا کہ جو لوگ چاند بھی مل بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے وہ غریبوں کے پیٹ پر عبادت گاہیں اور ہم جیسے کم علموں کی کھوپڑیوں پر مقدس الفاظوں کے مینار بنا کر امن بھائی چارگی ، مذہبی روداری، کی آوازین بلند کرنے کے اہل نہیں انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ ایسی چیزوں کی طرف بلائیں جو خود ان میں سرے سے موجود ہی نہ ہو۔
ہمیں تو اب اکثریت میں مذہبی کیٹ واک دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارا اکثریتی مذہبی مسئلہ شائد روزی روز گار کا ہے جس کے لیے مخصوص یونیفار اور مقدس کلمات و القاب کا مچان لگا کر ہم جیسے کم علم لوگوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ عقیدت کے چشموں کے ذریعے اندھا اور مذہبی خواب آور دواوں کے ذریعے عوام الناس کو مذہبی مریض بنا دیا جاتا ہے۔ انہیں آپس میں لڑوا کر عبادت گاہوں پر قبضے اور انہیں اپنے مخصوص مفاد و مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کی برکت سے عبادت گاہوں میں سرپھٹول ایک دوسرے پر عدالتی کاروائیاں اور پھر عبادت گاہوں میں تالے لگانا اب معمول کی بات لگتی ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کے تمام محترم بزروگوں اور دوستوں سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ اس چاند بازی کے مسئلہ کو آپس میں مل بیٹھ کر حل کریں۔ ورنہ ہم کم علم عوام یہی سمجھیں گے کہ مذہبی ہاتھیوں کی لڑائی میں کیوں اپنے عقیدہ ، اعتماد ، ایمان ، چندہ ، خیرات، زکواۃ ،ہدیہ کا نقصان کیا جائے۔ اللہ کرے کرہم مساجد کو مساجد ہی سمجھیں ان کا تقدس و احترام کا خیال رکھیں۔ مساجد اگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے لیے ہی کام کریں تو ٹھیک ہے ۔ ورنہ عبادت گاہوں کے نام پر مسجدِضراروں کی نہ پہلے کبھی ضرورت رہی اور نہ انشاء اللہ کبھی رہے گی بلکہ مسجد ضرار کو جلا دیا جاتا ہے تاکہ عوام الناس کو فتنہ سے بچایا جائے۔ عبادت گاہوں کے نام پر شکم سیری اور اقربا پروری کا جو تماشہ لگاہوا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنا قبلہ درست کرلیں اور اپنے جیسے تمام کمزور مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کو بچالیں ورنہ وہ دن دور نہیں جب سب ٹھاٹ دھرا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔