جاپان کی تدریسی رہنما کتب پر نظرِ ثانی، متنازعہ جزائر اپنا علاقہ قرار

ٹوکیو: جاپان نے منگل کو کہا کہ وہ اپنی تدریسی رہنما کتب پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ اس کے تحت چین اور جنوبی کوریا کے ساتھ تنازعے کی وجہ دور دراز جزائر کے دو گروہوں کو واضح طور پر اس کے علاقے کا حصہ بتایا جائے گا۔ جبکہ سئیول نے اس پر احتجاج کیا ہے۔

قدامت پسند آبے نے کہا ہے کہ وہ جاپانی تاریخ پر نظرِ ثانی کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس میں کم معذرت خواہانہ لہجہ شامل ہو۔ یہ موضوع جنوبی کوریا اور چین جیسے ایشیائی پڑوسیوں کے لیے ایک حساس معاملہ ہے جہاں دوسری جنگِ عظیم کے دوران اور پہلے کی جاپانی جارحیت کی تلخ یادیں اب بھی تازہ ہیں۔

وزیرِ تعلیم ہاکوبون شیمومورا نے کہا کہ وزارت جاپانی تاریخ کے بارے میں “مناسب انداز میں” تدریس کے لیے اساتذہ کی رہنما کتب پر نظرِ ثانی کر رہی ہے۔ مزید برآں وہ جاپانی پڑوسیوں کو اس اقدام کی وضاحت فراہم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تدریسی رہنما کتب کو تبدیل کیا جائے گا تاکہ واضح کیا جائے کہ جنوبی کوریا کے زیرِ قبضہ ننھے چٹانی ٹاپو جاپانی علاقہ ہیں۔ ان جزائر پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے اور یہ جاپان میں تاکے شیما جبکہ جنوبی کوریا میں توکدو کہلاتے ہیں۔

اس پر جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر جاپانی سفیر کو احتجاجاً طلب کر لیا۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔