ڈھونڈنے وہ چلا ہے جس کو اپنا پتہ یاد نہیں

 ظہیر دانش

ظہیر دانش

جاپان کی مصروف زندگی اور فکر معاش کے بعدمیسر آنے والے فرصت کے لمحات میں جاپان کے نیٹ اخبار کہلائے جانے والے اردو اخبار وں کا مطالعہ کیا تو پرانی تاریخوں میں ایک پر وقار تقریب نظر سے گذری جو کہ مورخہ 5 فروری 2014 بروز بدھ کو سفارت خانہ پاکستان (جاپان) میں “ یوم یکجہتی کشمیر “ کے عنوان سے منعقد کی گئی تھی ۔ جس میں جاپان میں مقیم پاکستان کیمونٹی کی عوام کہلائے جانے والی مخلوق نے کم اور سماجی ،سیاسی ، مذہبی تنظیموں کے عہدیداران و ممبران نے زیادہ شرکت کی اور اور اس طرح کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کا حق ادا کیا گیا۔ تقریب سے قائم مقام سفیر کی حیثیت سے ڈپٹی چیف آف مشن جناب علی جاوید صاحب نے خطاب فرمایا۔ اس وقت سفیر پاکستان اپنےنجی دورے پر پاکستان میں تھے۔ نیٹ اخبار کے مطابق محترم جناب علی جاویدصاحب نے اپنے خطاب میں جاپان میں نوجوان بچوں اور والدین کے مابین ہونے والی دوریاں ،یا کچھ مسائل کے حوالے سے فکر مندی کا اظہار کیا اور سفارت خانے کی طرف سے اپنے تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ کیمونٹی سے بھی مشورہ وغیرہ مانگا ہے۔ محترم جناب جاوید علی صاحب نے بہت خاص بات کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ` اس وقت جاپان میں پیدا ہونے والے بچے ہماری دوسری نسل ہیں۔ہمیں ان کی تربیت کرنی ہے جبکہ والدین بھی اپنے بچوں کی بہتر تربیت کے لیے سنجیدہ ہیں “۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ اس وقت جاپان میں بچوں کے لیے بہت مسائل سامنے آرہے ہیں۔اور سفارت خانہ پاکستان (جاپان ) ان مسائل کے حل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ( ناقل: سفارت خانہ اپنی دفتری ذمہ داریاں دیانت داری ، ایمانداری سے ادا کرلے ، فضول تقریبات و تقریرات سے پرہیز کرلے ،کرپشن میں لتھڑی ہوئی کالی بھیڑوں پر نظر رکھ کر ان کی دفتر ی بے ضابطگیوں پر قابو پالیں تو یہی ہماری (پاکستان کیمونٹی کی) بہت بڑی خدمت اور کیمونٹی پر احسان ِ عظیم ہوگا۔ )۔
ماتم سرا بھی ہوتے ہیں کیا خود غرض قتیل ۔۔ اپنے غموں پر روتے ہیں لے کر کسی کا نام
ہمیں اس جاپان کے جدید اور عالیشان مشینی دشت کی سیاحی میں اک عمر ہو چلی ہے اب تو چل چلاو کی طرف گامزن ہیں اب پہونچے کہ تب پہونچے ۔ آج تک جتنے بھی تربیت یافتہ ،سیاسی ،مذہبی گلوگار اداکار فنکار ہمارے ملک سے درآمد کیے گئے ان میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے جاپانیوں کے اخلاق ،دیانت داری، ہر بات پر شکر گذاری جیسی وغیرہ وغیرہ اعلی صفات و کردار کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اپنی اپنی صفوں میں جاکر خود میں ناپید کفار کی ان اعلی صفات کو تحریروں کے ذریعے ، خطاب و بیان کے ذریعے اسی طرح حسرت سے بیان کیا جس طرح ہمارے ایک پڑوسی ملک کے لوگ ٹرین کا ذکر کرتے تھے۔ بہترین تربیت اور محنتی ہونے کے باوجود انسان ہونے کے ناطے جاپان میں بہت سی کوتاہیاں بھی ہوں گی لیکن ایسی کون سی پریشانی ہے جس کے لیے جاپان میں موجود تمام سیاسی، مذہبی ، سماجی اللے تللے کے باوجود سفارت خانے کے سرکاری اہلکاروں کو سارےضروری اور حل طلب کام چھوڑ کر اس خصوصی تربیت گیری کا غم ٹھنڈا گرم کرنے والی مشینوں کے ہوتے ہوئے بھی سکون سے رہنے بسنے نہیں دے رہا ہے۔ علی بھائی ویسے تو بہت اصول پرست اور نفیس انسان لگے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ شائد جناب نے کچھ لوگوں یا گروہ کو خوش کرنے کے لیے ان کی کہی ہوئی بات دہرادی ہو۔ اس قسم کی خوش فہمی ،خوش بیانی، اور اپنی نمود و نمائش کے لیے ترکیبیں ،بنانے والوں میں
( پاکستانی برادری ) جاپان کی سیاسی سماجی ، مذہبی معلوم تاریخ میں چند عظیم (نفسیاتی مرض میں مبتلا ) شخصیات گذری ہیں اور گذررہی ہیں۔ جن کو شہرت کی ناگن نے ایسا ڈسا ہے کہ اس زہر کا تریاق مقدس ومتبرک مقامات کی سیاحی کے باوجود ممکن نظر نہیں آتا۔یہ چھلاوہ ٹائپ نو دولتیے ،اپنے شہر گاوں ،اور ملک کے گونگے جو جاپان جیسے تربیت یافتہ ملک کی بدولت اب ترقی یافتہ مغریبی ممالک کے ساتھ اپنے عزیر رشتہ داروں میں بھی عقلمند بن کر منہ کھولنے کے قابل ہوئے ۔ یہ آدھے تیتر آدھے بٹیر فوٹو گیر لوگ جوکئی ممالک میں کاروبار کرکے ڈینگیں مارنے ، دوستوں کو آپس میں لڑوانے کے علاوہ بچوں کی اچھی تربیت سے لے کر پاکستانی برادری کے لیے کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہ کر سکے ان کی آنی جانی سفارتخانے کے طواف اور ہر بڑی قابل قدر شخصیات کے ساتھ فوٹو گردی سے شروع ہو کر کسی پاکستانی ریسٹورنٹ میں لنگر کھانے کھلانے پر ختم ہوجاتی ہے۔ ان کا کار خیر اخبار وں سے شروع ہو کر اخباروں میں ہی ختم ہو جاتا ہے یعنی یہ اخباری کیڑے اخبار کی نظر ہو جاتے ہیں۔جو اب نہ گھر کے نظر آتے ہیں اور نہ گھاٹ کے ۔ اگر سرکاری اہلکار ان کی بولی بولنے لگیں گے تو یہ ہمارے( عوام کے ) ساتھ نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہی زیادتی کریں گے۔ بہرحال ہم اور ہمارے دوست اپنی کم علمی اور کم مائیگی کے سبب محترم جاوید صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ کہ بچوں کی تربیت سے آپ کی یا کسی اور کی کیا مراد ہے۔۔۔۔؟ اور یہ اعلی تربیت کون سی عظیم تربیت یافتہ مخلوق دے گی۔۔۔۔؟ کس جگہ (اپنی یا مقبوضہ) پر عوام کے خرچے یا شہرت کے شوقین مخیر مخلوقات کے ہدیہ پر یہ تربیتی کیمپ قائم کیا جائے گا۔۔۔؟ تربیت دینے کا یہ عظیم الشان فریضہ موصوف خود ادا کریں گے یا اس کے لیے علیحدہ سے کوئی مخصوس فنڈ پر تربیت یافتہ لوگ دستیاب کیے جائیں گے۔۔۔۔؟ ایسی کون سی تربیت ہے جو کہ محترم سرکاری اہلکاروں کی نظر میں اتنی ضروری ہے جس کے لیے سفارت خانے کے دروبام تک ` ` کوچ کوچ “ کی صدائیں بلند کرنے لگے۔
جاپانی کتنے محنتی اور اخلاقی طور پر تربیت یافتہ ہیں یہ بات تو ہر ترقی یافتہ حقیقت پسند مہذب ممالک کے ہر ذی شعور حکمران و عوام کو معلوم ہے جس کے لیے کسی قصیدہ خوانی کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں کہ بہترین تربیت کے طفیل جاپانیوں سمیت یہود و نصاری کا کُتا بھی سگنل پر سرخ بتی دیکھ کر قانون کی پاسداری میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
( جاری ہے )

1 comment for “ڈھونڈنے وہ چلا ہے جس کو اپنا پتہ یاد نہیں

  1. مغل عبدالمجید
    February 20, 2014 at 20:42

    بہت خوب۔ دنیا بھرمیں پاکستانی سفارت خانوں میں بدنطمی، بددیانتی اور کام چوری عروج پر ہوتی ہے۔ پاکستانی کمینوٹی کے مسائل حل کرنا تو کجا سفارت خانوں میں اپنے مسائل کے ضمن میں آنے والوں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی جاتی۔ سفارت خانوں میں بیٹھے یا تو اپنا سائڈ بزنس شروع کردیتے ہیں یا پھرایسے محسوس ہوتا ہے جیسے تین یا پانچ سال کیلئے Rest & Recreation Leave پرآئے ہوئے ہیں۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔