ڈھونڈنے وہ چلا ہے جس کو اپنا پتہ یاد نہیں۔(2)

 ظہیر دانش

ظہیر دانش

جاپان جیسے جدید ملک اور محنتی قوم کی تربیت کی ناکافی کا گلہ ہے تو کہیں اس سے یہ مراد تو نہیں لی جارہی ہے کہ دوران تربیت یا بعد از تربیت طالبان ٹریفک سگنل توڑیں، مقدس جلوسوں ، ریلیوں کے ساتھ گھیراو جلاو کی خصوصی تربیت حاصل کریں۔ گلی کے نُکڑ سے منہ نکال کر پولیس والوں کو ٹُلا ٹلا بولیں، لڑکیوں کے اسکول یا کالج کے باہر کھڑے ہوکر ان کی عزت افزائی کریں، ان کو گھر سے اسکول یا کالج تک لانے اور واپس گھر تک چھوڑ کر آنے کا فریضہ انجام دیں، خون سے عشقیہ خطوط لکھ کر انجمنِ عاشقان میں اعلی مقام حاصل کریں، ہر قسم کی کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے ،جعلی دوائیاں بنانے ان کو مارکیٹ میں پھیلانے کے نت نئے جدید طریقے متعارف کروائیں، رشوت لینے ، جائز کام کو ناجائز ، اور ناجائز کو جائز بنانے کے طریقے سیکھیں،نا صرف اپنے ملک میں بلکہ اپنے محسن ممالک میں بھی جائز نا جائز طریقے سے زمینیں ہتھیا کر چندہ کے نام پر بھیک مانگ کر اپنے خود ساختہ مذہبی طریقے کی ترویج کے لیے عبادت گاہوں کے نام پر مولوی مسافر خانے قائم کریں، کسی تنظیم میں شامل ہوکر فی سبیل اللہ فساد کے نعروں کے ساتھ مخصوص پگڑیوں ،اور حلیوں کے ساتھ چندہ ،صدقہ ،خیرات ،ہدیہ جمع کریں جو دے اُس سے کہیں کہ ونس مور ،اور نہ دینے والوں کو مقدس الفاظ میں کھری کھری سنائیں انھیں نرم و شیریں بیانی سے ذلیل و رسوا کریں،ممبر پر کھڑے ہوکر ہاتھ لہرا لہرا کر منہ سے جھاگ نکال کر اپنے مخالفوں کے کُشتوں کے پشتے لگائیں،اپنے جیسوں کی ریا کاری،مبالغہ آمیز چرب زبانی،بے ایمانی والے کاموں پر سب کچھ جانتے بوجھتے بھی سبحان اللہ ، الحمداللہ ،ماشاء اللہ کی صدائیں بلند کریں، مخصوص یونی فارم زیب تن کیے اپنے حلیے سے ایک عجیب الخلقت مخلوق نظر آئیں، اپنی والی سات تالوں میں بند کردیں اور دوسرو ں کی عزتیں مال غنیمت سمجھ کر مشاورت کے ساتھ اجتماعی طور پر تار تار کردیں، مخصوص گروہ کے ساتھ مل کر زعمِ خلیفہ گیری میں مذہب کے نام پر مذہب گیری کریں، غریب کے سر پر چھت اور غریب بہن بیٹی کے سرپر چادر نہ دیں لیکن اپنے چہیتے مُردوں کی قبروں کو ، مخصوص عبادت گاہوں کو سجا سجا کر اس کی اصلی صورت بھی بگاڑ دیں، ہسپتال ،تعلیمی ادارے ،ملیں ،فیکٹریاں ، کارخانے اور غریب کی جھونپڑیاں تاریکی میں ڈوبی ہوں لیکن اپنی اپنی عبادت گاہیں ،مقبرے ،مزار کو چندہ، خیرات ، ہدیہ سے چلنے والے جنریٹروں کے برقی قمقموں سے جگمگائیں، یہود و نصاری کی دی ہوئی کھلی چھٹی سے اپنی اوقات بھی بھول جائیں، جگہ جگہ زعم مذہب گیری میں مانگ مانگ کر ایسی عبادت گاہیں بنائیں جس کا نہ کوئی مقصد اور نہ کوئی فائدہ، اپنی نمود و نمائش ،ریا کاری اور ٹیکس بچانے کی ترکیبیں خو د بھی سیکھیں اور اس کار خیر میں دوسروں کو بھی شریک کریں، کس جاپانی مالیاتی اداروں کو کس طرح بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اس فن میں کمال حا صل کریں،۔ جناب ِ من ہماری اعلی تربیت اور اس کی افادیت پر راتوں سے بھی لمبے یہ پیار کے قصے عاشق سنا سکتے ہیں۔ المختصر ایسی کیا تربیت ہے جس کے لیے سفارتی اہلکار اپنی ذمہ داریوں (جن پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہا ) کے ساتھ اس کار خیر میں بہ نفس و نفیس خود شامل ہونے کی نویدیں سنارہے ہیں بلکہ ان برساتیوں کی تان سے تان ملا کر لوگوں کو بھی سرکاری پلیٹ فارم سے ترغیب دے رہے ہیں۔ انتہائی اختصار کے ساتھ جو اعلی تربیتی صفات بیان کی گئی ھیں اس سے بھی زیادہ اعلی معیار کی تربیت اور اعلی صفات جاپانی امتزاج کے ساتھ ہم سمیت ان بچوں کے باپوں میں موجود تھیں اور رہیں گی اور اگر کچھ کمی پیشی رہ گئی ہے تو اچھی باتیں سیکھنے سکھانے سے کس نے روکا ہے اس کے لیے باقاعدہ تمبو لگا کر فوٹو گیری کی کیا ضرورت ہے۔ہم (کیمونٹی ) پرمسلط ہونے کے بہانہ گیر یہ بتائیں کہ اب اور کون سی مزید تربیت باقی ہے ، یہاں تو مقدس سرزمین کے اعلی و ارفعہ ایسے تربیت یافتہ بھی پائے جاتے ہیں جن کی اعلی تربیتوں کے طفیل مساجد میں تالا لگ چکے ہیں اور چند ایک میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا انجام بھی انشاء اللہ ان سے الگ نہیں ہوگا، ہماری اعلی تربیت اور اقدار کے طفیل اب تو جاپانی بھی ہمیں پہچان گئے ہیں کہ جن ملکوں کے انتہائی تربیت یافتہ لوگوں اور اعلی ترین مسند پر کنڈلی مارے مفاد پرست مذہبی خلیفہ گیروں کی جھوٹ ،مکاری ،ریا کاری ، بے ایمانی ،خیانت داری جب اس کمال کی ہے تو ان کا مجھ جیسا عام آدمی کس قماش کا جھوٹا اور مکار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اب جاپانی ہماری بے غیرتی ،بے شرمی سے متاثر ہو کر عبادت گاہوں کے باہر کھڑے ہمیں صلواتیں سناتے ہیں، اور چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے ہیں ْ ْ اناتا تاچی مننا ہو سو سکیٗ ٗ (تم سب جھوٹے ہو ) ہماری تربیت ، مخصو ص حلیہ اور ماتھے پر عبادت کے نشانوں کی نمائش کے طفیل اب مخصوص علاقے میں کوئی جاپانی رہنے کے لیے گھر اور کاروبار کے لیے زمین دینے پر تیار نہیں، ہماری اخلاقی گراوٹ کا ڈنکا تو چہار عالم میں سنائی دیتا ہے، ان اعلی تربیت یافتہ چھلاوہ ٹائپ سیاسی سماجی، مذہبی فنکاروں کےطفیل دوست دوست نہ رہے، کل کے شیر و شکر آج ایک دوسرے کی شکل مبارک بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے، ایک دوسرے کو نوچنے بھنبوڑنے کا کوئی موقع دست مبارک سے جانے نہیں دیتے۔ ان موقع پرست ،چندہ خوروں ، ریاکاروں، گروپ بازوں کے طفیل کوئی بھی جاپان میں یہ گروپ بازیاں ختم نہیں کر سکتا ، یہ آج اگر کچھ ماحول میں جو امن شانتی یا سیاسی ،سماجی، مذہبی گٹھ جوڑ نظر آرہا ہے یہ رمانس بھی ہمیشہ کی طرح زیادہ دن نہیں چلے گا، یا تو خود خلع لے لیں گے، یا طلاق ہو جائے گی، یا بھاگ جائیں گے ان جماندروں ہوشیاروں سے اب عوام کو نہ تو کوئی خیر کی امید ہے اور نہ ان جیسے بھگوڑوں کو اپنے اوپر مسلط کروانے کا شوق۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں، کہ سفارت خانہ سفارت کانہ بنا دیا گیا ہے جنھیں صرف بر سر اقتدار جماعت کے عہدیداران و کارکنان کے ساتھ وہی لوگ نظر آتے ہیں جو ان جماعتوں کے منظور نظر ہوں یا سفارتی اہلکاروں کو خوش کرنے کے فن سے بخوبی واقف ہوں۔، جیسے کہ پہلے پیپلز پارٹی جادمانی گروپ، اب فرخ عامل مسلم لیگ گروپ اور آئندہ کوئی اور پی ٹی آئی گروپ ہوگا۔ اور ہمیشہ کی طرح یہ سرکاری اہلکار بھی پہلے والوں کی طرح برسر اقتدار جماعت کے جیالوں کو سینہ سے لگائے شریف کمزور عوام کے مسائل پر ہمیشہ کی طرح اپنی چاپلوسی، اقرباء پروری، نوکرشاہی ، افسر شاہی کی چادر ڈال کراپنی معینہ مدت پوری کریں گے اور پھر کسی اور دیس سدھاریں گے۔ سفارت خانے میں آنے والی نئی ٹیم سے عوام کو پہلے والوں کی طرح بہت سی خوش فہمیاں ورثہ میں ملیں ہیں سفارت خانہ اپنا اچھا امیج عوام میں بحال کرنا چاہتا ہے تو پھر اُسے اپنی دفتری معمولات کو درست کرنا ہوگا نہ کہ ہر موسم کے ان چند فوٹو گیری کے شوقینوں کی ہمنوائی ۔ سفارت خانے کے انتہائی محترم سرکاری اہلکاروں سے التماس ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحتیوں اور اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک و قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔ نظر آنے والے اور نظر نہ آنے والے دفتری مسائل کی طرف توجہ دیں ان سوئمبر کی رسم ادا کرنے اور کروانے کے شوقینون کے چکر میں نہ آئیں جنھیں بچوں سے پہلے خود تربیت کی ضرورت ہے۔۔اللہ ہم سب کو حق و سچ کہنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین )

(edit)

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔