مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ بٹ کائن مشتبہ ہے، آسو

ٹوکیو: وزیرِ خزانہ تارو آسو نے جمعے کو کہا کہ انہیں ہمیشہ لگتا تھا کہ بٹ کائن مشتبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجازی کرنسی کی ٹوکیو سے تعلق رکھنے والی ایکسچینج کے بظاہر انہدام کے بعد ان کا ملک اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

آسو کے تبصروں سے قبل امریکی مرکزی بینک کی سربراہ جنیٹ یالین نے بھی اظہارِ خیال کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل ریزرو اس کرنسی پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا اسے قاعدے قانون کا پابند بنانا انتہائی مشکل ہو گا۔

آسو نائب وزیرِ اعظم کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس رمزی کرنسی (بٹ کائن کا ہر لین دین رمز نگاری یا انکرپشن کے ذریعے ہوتا ہے)کے مسائل پہلے ہی دیکھ لیے تھے۔ یہ کرنسی دنیا بھر میں کمپیوٹروں کے ایک جحیم نیٹ ورک کے درمیان لین دین کے پیچیدہ رابطے تخلیق کر چکی ہے۔ “میں سوچ رہا تھا کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں جاپان کو حرکت میں آنا پڑے۔ لیکن یہ میرے اندازے سے جلد واقع ہو گئی۔”

عالمی بٹ کائن برادری اس ہفتے ہل کر رہ گئی ہے۔ یاد رہے انکشافات اور الزامات کے ایک سلسلے کے بعد پتا چلا تھا کہ ماؤنٹ گاکس نامی ایکسچینج پر واقع ڈیجیٹل بٹووں سے سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے بٹ کائن چوری ہو چکے ہیں۔ (بٹ کائن ایکسچینج ایسے ہی ہیں جیسے عام کرنسی کے بینک ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بٹ کائن کو انہیں ایکسچینجوں پر رکھنا پڑتا ہے یہ آپ کی جیب میں ڈالر وغیرہ میں تبادلے کے بعد ہی آ سکتے ہیں۔)

آسو نے جمعے کو کہا کہ پولیس اور حکومتی وزارتیں ماؤنٹ گاکس کے واقعے سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گی۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔