دیکھنے ہم بھی گئے پر وہ تماشہ نہ ہوا ، ظہیر دانش

 ظہیر دانش

ظہیر دانش

مورخہ 23 فروری2014 بروز اتوار توچگی کین اویاما سٹی میں مسلم لیگ(ن) جاپان کی جانب سے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں پاکستان سے تشریف لائے ہوئے سینیٹر و مرکزی سیکریٹری اطلاعات (پی ایم ایل این ) جناب مشاہد اللہ خاں صاحب نے شرکت کی ۔ یاد رہے کہ مشاہد اللہ خان صاحب اس وقت اپنی فیملی کے ساتھ نجی دورے پر جاپان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ہمیں بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی جس کے لیے ہم (عوام ) مسلم لیگ (ن) جاپان کے تمام دوستوں کے شکر گذار ہیں۔ مجھے اس تقریب کے بارے میں لکھنے کی فرمائش کی گئی تھی اس لیے آنکھوں دیکھا ،کانوں سنا اور جو محسوس کیا اس کو رئیس بھائی کی دعاوں کی طرح مختصرا بیان کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ میں جب جلسہ گاہ کی نزدیک کار پارکنگ کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا محترم محبوب نجمی بھائی سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو نجمی بھائی ہماری رہنمائی کے لیے خود تشریف لے آئے ۔اتنے میں جناب رحیم آرائیں بھی اپنے ایک دوست کے ساتھ کار پارکنگ تلاش کرتے نظرآئے علیک سلیک کے بعد ہم محبوب نجمی بھائی کی قیادت میں کار پارکنگ تک ایک ساتھ ہی گئے اور وہاں سے جب جلسہ گاہ میں آئے تو وہاں کافی تعداد میں سماجی، سیاسی ، مذہبی شخصیات رونق افروز تھیں۔ جن سے کبھی کبھی ایسی ہی کسی تقریب میں ملاقات ہوتی ہے۔ کچھ دیر بعد محترم شیخ اختر (مدیر اعلیٌ ٌ قیادت ٌ )بھی تشریف لے آئے ۔ وہاں شعلہ بیان مقرر اور شاعر مسلم لیگ (ن) مدیر اعلی (آواز ملت ) جناب میاں اکرم صاحب نے ہم سمیت تمام معزز مہمانوں کو جس طرح خوش آمدید کہا ہم سب میاں اکرم اور رانا ابرار صاحب کے مشکو ر رہیں گے۔ میاں اکرم صاحب نے جس طرح مہمان ِ خصوصی کے آنے تک اسٹیج سنبھالا اور رونق لگائی وہ جذبہ اور مسلم لیگ ن سے محبت قابل تحسین ہے۔ ہال میں شاہد چوہدری صاحب بھی حسب معمول تصویر کشی کے تمام اسلحہ کے ساتھ مورچہ لگائے کیمرے کے نینوں کے ذریعے ہر آنے جانے والے کو قید کرنے کے لیے بے چین نظر آئے۔ اس پر وقار تقریب کی تفصیل اگر ہوسکا تو پھر کسی وقت بیان کروں گا۔ لیکن جس طرح جاپان کے تمام حلقوں میں کچھ خبریں یا افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ جناب مشاہد اللہ خان صاحب پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی قیادت کی طرف سے اہم پیغام لے کر آرہے ہیں۔اس افواہ یا مصدقہ خبر کی جستجو بھی تھی کہ ایسا کیا پیغام ہے جو کہ اس جدید دور میں بھی محترم جناب مشاہد اللہ خاں صاحب ذارئع ابلاغ کی تمام سہولیات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے وہ اہم پیغام خود جاپان تشریف لا کر سنائیں گے۔ جسے بلاآخر ہر خاص و عام میں عام ہو ہی جانا ہے۔ کیوں کہ سیانوں نے کہا ہے کہ ْ محبت وہ راز ہے جو چھپایا نہ جائے گا ٗ ( دوران تقریب ہوا بھی ایسا ہی ) ہمیں ( عوام کو )مسلم لیگ( ن) جاپان کی قسمت پر رشک آیا کہ جاپان میں رہنے والے مسلم لیگیوں نے کیا قسمت پائی ہے کہ مسلم لیگ ن کے ( ایک دوسرے کے خون کے پیاسے )جیالوں سے قائدین اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان جیسوں کے لیے اپنے ایک اہم ذمہ دار عہدیدار کو بمعہ پیغام بہ نفس و نفیس بھیج کر ایک نئی روایت قائم کی جارہی ہے۔ حالاں کہ جو مسلم لیگ (ن) کی اس جاپان میں حالت ہے اس کی رنگینی و سنگینی سے جاپان میں رہنے والی سرکاری ایجنسیوں سے لے کر پاکستانی برادری تک واقف ہے۔ کہ یہ لیگی برادران کتنے سلجھے ہوئے باشعور ایک دوسرے کی عزت کا پاس کرنے والے ہیں۔ یہ اپنی روایات کو جس طرح سینے سے لگاے اس جاپان کی تاریخ میں قولی، فعلی، تصویری،تحریری فتوحات رقم کررہے ہیں وہ جاپان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں شر اور امن کا مطلب سمجھانے میں جو کوفت ہوتی ہے اس کے تصور سے ہی غیر مسلم لیگیوں کو دانتوں تلے پسینہ آجاتا ہے۔ لیگی برادران اتنے ڈھیٹ ہیں کہ یہ کسی بیمار کی عیادت پر فوٹو گیری سے بھی باز نہیں آتے مذہبی رنگیلوں کی طرح مذہبی ریا کاریاں ا س کمال کی ہیں ان کا بس چلے تو یہ نماز کے دوران میں بھی اپنے قیام و سجود کی تصویریں اور ویڈیوں بنوائیں، مخالفین کو عبادت گاہوں میں بھی نہ بخشیں ، ان پر وضو کا پانی بند کردیں، ان کے نیچے سے دریاں کھینچ کر ننگے فرش پر عبادت گاہوں سے دور کسی پارک میں عبادت کرنے پر مجبور کر دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔قول و فعل کے تضاد کا یہ عالم ہے کہ اسٹیج پر دوستوں کے لیے کئی میل پیدل چل کر جانے سر کٹانے ، ملک و قوم کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے جیسے بیانات دینے والے اپنے دوستوں کو روتا چھوڑ کر کسی دوسر ی چمکدار پارٹی کو پیارے ہوجائیں، ان کے سیاسی شعور بردباری، رواداری کا یہ عالم ہے کہ لوگ اتحاد کے لیے بہانہ ڈھونڈتے ہونگے یہ شر پھیلانے ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹنے کی فکر میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ شائد ان جیسے لیگیوں کے لیے کسی نے کہا ہے ْ ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسمان کیوں ہو ُ ٗ جتنی رقم یہ اپنی سیاسی کیٹ واک پر خرچ کرتے ہیں اس سے بھی قلیل رقم سے یہ اپنے کسی غریب مسلم لیگی ساتھی کی مدد کرکے اس کی دعاوں سے ایک محل بمعہ حوروں کی سنگت کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ اہم پیغام کا سن کر ہم بھی اپنے دوستوں کے ساتھ پہونچ گئے کہ مسلم لیگی نامہ نامہ بر کے ساتھ دیکھیں گے۔ بہرحال تقریب شروع ہوئی اور اسٹیج کی رونق جناب میاں اکرم صاحب سے اسٹیج سیکریڑی کا قلمدان لےکر جنرل سیکریڑی کہلائے جانے والے معزز مسلم لیگی کو دے دیا گیا۔ کچھ دیر مختلف معز ز اراکین کی تقاریر کے بعد ملک نور اعوان صاحب نے جناب رانا ابرار صاحب کو اپنے گروپ میں سینئر نائب صدر کا با ضابطہ عہدہ دینے کا اعلان کیا تو ہم سمیت بہت سے لوگوں نے سکون کا سانس لیا ہوگا۔ ورنہ اس سے پہلے رانا ابرار صاحب سینئر رہنما، ممتاز رہنما وغیرہ وغیرہ جیسی اصطلاحات سے کام چلا رہے تھے۔ رانا ابرار صاحب کو سینئر نائب صدر کا عہدہ تفویض کرنے کے بعد اچانک ایسا لگا کہ شائد ہال میں موجود تمام دوستوں کو سینئر نائب صدر ی کا مزا چکھانا ہے۔ سینئر نائب صدور بنانے کا اعلان تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اسٹیج پر عہدوں کی فراخدلانہ تقسیم کے بعد۔ معزز مہمان جناب مشاہد اللہ خاں صاحب سے تمام عہدیداران کا تعارف کروایا گیا۔ مجھے ایک دوست کا ضروری ٹیلی فون سننا تھا دوسرے اس طرح سینئر عہدوں کی تقسیم کی تاب نہ لا کر کچھ دیر کے لیے ہال سے باہر چلا گیا۔ جب ہال میں واپس آیا تو شیخ قیصر صاحب مائل پکڑے رانا ابرار رانا ابرار کی صدائیں بلند کر رہے تھے میں نے سوچا کہ ْ محبت ہو تو ایسی ہو ٗ ٗ لیکن مسلم لیگ (ن) جاپان کی قسمت میں محبت کہاں یہ لوگ نفرت بوتے اور دشمنی کاٹتے ہیں۔ شیخ قیصر صاحب نے رانا ابرار صاحب کو اسٹیج پر بلوا کر جس طرح سینئر نائب صدر کا عہدہ دینے کی پاداش میں ان سے عہد رفتہ کی کار گزاری پر خراج تحسین کے ساتھ عہد و پیمان لینے کی کو شش کی تو ہمیں عوام ہونے کی حیثیت سے یہ کہنے کا پورا حق ہے کہ ْ ْ اے شہر ِ یار تو بھی تو اپنا حساب دے ٗ ٗ قیصر صاحب ویسے تو بہت سلجھے ہوئے انسان ہیں نہ جانے کیوں پارٹی ڈسپلن کو فراموش کر بیٹھے اور طویل غیر حاضری کے بعد دوبارہ نہ جانے کب چپکے سے بین الاقوامی امور کی مسند پر براجمان ہوگئے۔ حالاں کہ عہد رفتہ تو کچھ اور ہی تقاضہ کر رہی تھی۔ شیخ قیصر صاحب اگراپنی پارٹی کے کسی بھی اہم عہدے پر ہوں ہمیں کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہوگی کہ آپ جیسا بردبار شخص کسی پارٹی کو لیڈ کر رہا ہے لیکن محترم شیخ قیصر صاحب کی اپنی پارٹی مخالفت میں کی گئی اعلی خدمات کو مد نظر رکھ کر ہم عوام یہ التماس کر تے ہیں کہ جناب شیخ قیصر صاحب خود پارٹی کی مخالفت میں کی گئی خدمات کی وضاحت کریں۔ اور یہ بتائیں کہ اب وہ کس کی آشیر باد پر اس وقت مسلم لیگ (ن) جاپان کی سیاست میں اپنا کر دار ادا کر رہے ہیں۔ جب کہ انھیں یہ یاد دلانے کی شائد ضرورت نہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹی کی ڈسپلن کی شدید خلاف ورزی کرتے ہوئے پارٹی کی مخالفت میں اپنے علیحدہ نشان کے ساتھ الیکشن لڑا ۔ اس وقت قائد محترم پاکستان مسلم لیگ (ن) جناب نواز شریف صاحب نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ْ ْ پارٹی ٹکٹ جاری کرتے وقت امیدواروں کی قربانیوں کو مد نظر رکھیں گے پارٹی قیادت جن امید واروں کا اعلان کرے دوسرے امید وار اس فیصلے کا احترام کریں اور ڈسپلن کا مظاہرہ کریں ( کیا شیخ قیصر صاحب آپ نے ایسا کیا۔۔۔۔؟ ) ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان جناب سینیٹر پرویز رشید صاحب نے بیان دیا تھا کہ ْ ْ اگر کوئی مسلم لیگ (ن) کے امید وار کے خلاف الیکشن لڑے گا اسے پارٹی سے فارغ کر دیا جائے گا( شیخ قیصر محمود صاحب آپ نے پارٹی امید وار کے خلاف الیکش لڑا تھا۔ آپ میں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں کہ آپ اپنی سیٹ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔۔۔؟)۔ پھر مئی 2013 کو چنیوٹ آپ ہی کے حلقے NA-86اور PP73میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جناب شہباز شریف صاحب نے فرمایا تھا کہ ْ ْ شیخ قیصر جاپان والا ہمارا ممبر نہیں اور نہ ہمارا امیدوار ہے ۔بلکہ اسٹیج پر بلوا کر اپنے امیدوار کی نشان دہی بھی کی تھی ۔ اس وقت میاں شہباز شریف صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ ہمارے ان ( شیر کے نشان والے )امیدواروں کے ساتھ کھڑے ہیں وہ سب ہمارے شیر ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے۔ شیخ قیصر صاحب آپ جس وقت مسلم لیگ ن کے (شیر کے نشان والے ) امیدواروں کے مخالف کھڑے اپنی الگ الیکش کمپین چلا رہے تھے۔ اس وقت رانا ابرار حسین اور حافظ مہر شمس پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی الیکشن کمپین میں پاکستان جاکر ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ ان کی تصویری البم آپ جیسے با خبر شخص کو دکھانے کی ضرورت تو نہیں لیکن اگر ضروری ہوا تو یہ بھی دکھائی جاسکتی ہے ۔
پارٹی دسپلن کی خلاف ورزی کرنے ، اپنے قائد محترم کے بنائے گئے اصول سے روگردانی کرنے ، اپنی ہی پارٹی کے منتخب کئے گئے امیدوار کے خلا ف الیکشن لڑنے ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انتہائی اہم رہنما اور وزیر اعلی پنجاب جناب شہباز شریف صاحب کے واضع اعلان( ْ ْ شیخ قیصر جاپان والا ہمارا ممبر نہیں اور نہ ہمارا امیدوار ہے ٗ ٗ ) کے باوجود آپ ہیں کہ اپنی آنکھ میں پڑے شہتیر سے بجائے تکلیف ہونے کے آپ اسے انجوائے کر رہے ہیں۔پارٹی کی کھلم کھلا مخالفت کے باوجود اس بات پر بضد ہیں کہ آپ ہی مسلم لیگ (ن) جاپان کے حق دار ہیں۔ اور اب بھی بین الاقوامی امور کی مسند پر آپ ہی کا قبضہ ہے۔
ْ ْ رنگ حنا بھی رہے اور خون کی سرخی بھی ۔۔۔۔ آپ بھی آئے ہیں کیا خوب تمنا لے کر
یہ مسلم لیگ (ن) جاپان کے دوستوں کی شرافت اور ان کی رواداری ہے کہ وہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود آپ کو برداشت کر رہے ہیں۔ محترم شیخ قیصر صاحب پارٹی کے لیے آپ کا خلوص محبت اپنی جگہ لیکن پارٹیوں کا پیٹ اس قسم کی ہرجائی طبیعت ،غیر ذمہ دارنہ عادات و اطوار سے نہیں بھرتا اس کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ لیکن آپ جیسے لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ اپ لوگوں نے ہرچیز کو دولت کے ترازو میں ہی تولنا، بولنا، سننا ، دیکھنا، دیکھانا سیکھ لیا ہے۔ سیاسی قد کی کشادگی کے لیے اس کا آسان حل پیسہ جمع کر و اور قائدین کو بھیج کر ، ان کے گرد خریدی جانی والی مخلوق کو خرید کر اپنے مفاد پرستانہ ، خواہش کی تکمیل اور اپنا قد اونچا کرلینا ہی آپ لوگوں نے سیاست سمجھ لیا ہے۔ ہمارا ( عوام ) کا خیال ہے کہ پہلے آپ تمام سیاسی ، سماجی ، مذہبی لوگوں کو یہ سیکھنا چاہیے کہ سیاست اور سازش میں کیا فرق ہے، عبادت اور ریاکاری کس کو کہتے ہیں، انکساری اور خوشامد کیا ہوتی ہے۔ اس قسم کی وغیرہ وغیرہ صفات میں اگاہی کے بعد ہی کچھ دھول چھٹے گی تو نظر آئے گا ۔ جس طرح موجودہ سینئر نائب صدر کو اسٹیج پر بلوا کر عہدو پیمان لیے گئے اس طرح پہلے آپ خود عوامی عدالت میں آئیں اور اپنے آپ کو کلئیر کریں۔ اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرے۔ اسٹیج پر آکر اپنے ہمنواوں کی فوج ظفر موج کے بل پر کوئی بھی کسی کو اسٹیج پر بلوا کر اس کی اچھا ئی برائی پر اس کا احتساب کر سکتا ہے۔ اگر رانا ابرار ، حافظ مہر شمس یا کوئی اور گروپ بازی کرتا رہا یا کر رہا ہے تو اس تمام فساد کی اصل جڑ کہاں سے شروع ہوئی اور کس نے شروع کی۔ جب تک کُتے کو کنویں میں سے نہیں نکالو گے کنواں پاک نہیں ہونے والا۔ آپ جیسے لوگوں نے ایسو سی ایشن کے نام پر ، سیاست کے نام پر ، مذہب کے نام پر جن چیزوں کی بنیاد رکھی ہے اس پر فخر کرتے آپ لوگوں کی گردن کا سریہ خم نہیں ہوتا ، وہ کار خیر نہیں کار فساد ہے۔ دوستوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کی سازش ہے ۔ جس سے نہ ملک کا کوئی فائدہ ہے اور نہ عوام کا۔ اس تمام کاری کرم سے یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ کئی لاکھ ین جمع کر کے جائز ناجائز طریقے سے اپنے قائدین کو بھیج کر ان کی زنبیل نما بھاری جیبیں تو بھاری کی جاسکتی ہیں لیکن کسی غریب کا پیٹ نہیں بھر ا جاسکتا ۔ دوستوں کو ایک دوسرے سے ملانے سے قاصر لوگ ، اپنے دوستوں کے احوال سے نا واقف لوگ پاکستان اور جاپان میں مقیم پاکستان برادری پر مسلط ہونے کا خواب دیکھنا بند کردیں۔۔ جو پیغام مٹھی میں بند کر کے لایا گیا اور سنایا گیا اس کی بازگشت سے یہ فضا سوگوار آج بھی ہے۔ عوام الناس کو بھی چاہیے کہ ہر سیاسی ، سماجی ، مذہبی اداکاروں کی ہرغلط بات پر ان کا احتساب کریں۔ ان کا کیا کرایا ان کو یاد کرائیں، یہ لوگ سنیں نہ سنیں لیکن عوام اپنی مقدور بھر کوشش ضرور کریں ۔
کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیل ۔۔۔۔ مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔