یوکرائن کے ساتھ کریمیا پر مذاکرات شروع کیے جائیں، جاپان کا روس سے مطالبہ

ٹوکیو: جاپانی وزیرِ خارجہ فومیو کیشیدا نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرائن کے ساتھ کریمیا کا مسئلہ حل کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ علیحدگی کے لیے ہونے والے متوقع انتخابات ناقابلِ قبول ہیں۔ یہ بات ان کی وزارت نے بدھ کو بتائی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا، لاوروف کے ساتھ منگل کو رات گئے ایک گھنٹہ طویل ٹیلی فون تبادلہ خیال کے دوران کیشیدا نے “روس پر زور دیا کہ وہ یوکرائن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچائے بغیر یوکرائن کی عبوری حکومت سے مکالمہ کرے”۔

بیان میں کہا گیا کہ جاپان کے اعلی ترین سفارتکار نے کریمیا میں علیحدگی کے لیے ہونے والے ممکنہ انتخابات پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ انتخابات مسائل انگیز ہو سکتے ہیں اور ان کے تحت کریمیا روسی وفاق میں شامل ہو سکتا ہے۔ دریں اثناء مشرقی یوکرائن میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

بیان کے مطابق، جواب میں لاوروف نے “روسی موقف واضح کیا اور براہِ راست مکالمے پر منفی ردعمل دکھایا۔ چونکہ وہ یوکرائن کی عبوری حکومت کو قانونی نہیں سمجھتا”۔

یوکرائنی عبوری صدر اولے سانڈر تورچینوف نے منگل کو اے ایف پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا، روسی لیڈر یوکرائن کے ماسکو نواز رہنما کی برخاستگی کے بعد یوکرائنی ہم منصبوں سے کسی بھی قسم کے مکالمے سے انکار کر رہے ہیں۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔