جاپان نے ری اسٹارٹ کی جانچ پڑتال کے لیے دو ری ایکٹر فوری فہرست میں شامل کر دئیے

ٹوکیو: جمعرات کو جاپان نے صوبہ کاگوشیما کے دو ری ایکٹروں کو حفاظتی جانچ پڑتال کے حتمی مرحلے کے لیے فوری فہرست میں شامل کر لیا۔ اس سے ملک کی ایٹمی صنعت کی واپسی ایک قدم اور قریب آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ تین برس قبل فوکوشیما آفت کے بعد تمام پلانٹ بند کرنے پڑے تھے۔

فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر پر پگھلاؤ کی تیسری برسی کے دو دن بعد ایٹمی نگران ادارے (این آر اے) نے کیوشو الیکٹرک پاور کو کے دو ری ایکٹروں کو فوری فہرست میں شامل کر لیا۔ یہ فیصلہ ری اسٹارٹ کی درخواستوں پر جائزے کے لیے اہلکاروں کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا۔

کیوشو الیکٹرک جاپان کی علاقائی اجارہ دار بجلی کمپنیوں میں سب سے زیادہ ایٹمی بجلی پر انحصار کرتی ہے۔ ایٹمی بجلی فوکوشیما سے قبل جاپانی توانائی کا ایک تہائی کے قریب پورا کرتی تھی۔

وزیر اعظم شینزو آبے ایٹمی بجلی کے مضبوط حامی ہیں۔ انہوں نے پچھلے ماہ وسط مدتی توانائی منصوبے کی منظوری دی۔ اس میں ایٹمی بجلی شامل ہے اور نگران اداروں کی جانب سے محفوظ سمجھے گئے ری ایکٹروں دوبارہ چلانے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے نے پچھلی انتظامیہ کے پالیسی کو بالکل اُلٹا دیا۔ پچھلی حکومت نے تمام ایٹمی بجلی گھروں کو بالآخر ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جاپان کے پاس 48 چلنے کے قابل ایٹمی ری ایکٹر ہیں۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔