بیجنگ میں عدالت جاپانی زمانہ جنگ کی جبری مشقت کا مقدمہ سنے گی

بیجنگ: بیجنگ کی ایک عدالت نے پہلی مرتبہ چینی شہریوں کا مقدمہ سننے پر آمادگی ظاہر کی ہے، یہ بات مدعیوں کے وکیل نے بتائی۔ مدعی دوسری جنگِ عظیم کی جبری مشقت کے لیے جاپانی فرموں سے زرِ تلافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بدھ کو جاپان نے عدالت کے فیصلے کو “سنجیدہ طور پر” باعث تشویش قرار دیا۔

مدعیوں کے ایک وکیل کانگ جیان نے منگل کو اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی۔ قبل ازیں چین اور جاپان ہر دو جگہوں پر ایسے مقدمات دائر کرنے کی کئی ناکام کوششیں ہو چکی ہیں۔

چینی عدالتیں حکمران کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔

مزدور اور ان کے عزیز و اقارب ہر کارکن کے لیے دس لاکھ یوآن (161,000 ڈالر) کے زرِ تلافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مزید برآں وہ چینی اور جاپانی اخبارات میں معذرت ناموں کی اشاعت کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

جاپانی عدالتوں نے پچھلے برسوں کے دوران دائر شدہ ایسے کئی مقدمات کو مسترد کیا ہے۔ ملک کی عدالت عظمی نے 2007 میں قرار دیا تھا کہ انفرادی چینی شہری جاپان سے زرِ تلافی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔

جاپان کے اعلی ترین سرکاری ترجمان چیف کیبنٹ سیکرٹری یوشی ہیدے سُوگا نے بدھ کو جبری مشقت پر افسوس کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے موقف برقرار رکھا کہ 1972 کے مشترکہ اعلامیے نے جنگ سے متعلق زرِ تلافی ادا کرنے کے چینی حقوق منسوخ کر دئیے تھے۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔