شمالی کوریا کے میزائل لانچ سے دو طرفہ بات چیت متاثر نہیں ہو گی، جاپان

ٹوکیو: شمالی کوریا کے تازہ ترین میزائل داغنے کی وجہ سے ٹوکیو اور پیانگ یانگ کے درمیان اس ماہ کے اواخر میں شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر ہونے والے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔ یہ بات جی جی نیوز ایجنسی نے جاپانی وزارتِ خارجہ کے اہلکار کے حوالے سے بدھ کو بتائی۔

ایک الگ خبر میں جاپانی میڈیا نے وزیرِ خارجہ فومیو کیشیدا کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا تھا کہ جاپانی حکومت نے بیجنگ میں اپنے سفارتخانے کے ذریعے میزائل داغنے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

جاپان اور شمالی کوریا 30 اور 31 مارچ کو بیجنگ میں اعلی سطحی مذاکرات دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

دریں اثناء، شمالی کوریا نے کہا کہ جاپان کے ساتھ مذاکرات میں عشروں قبل اغوا ہونے والے جاپانی شہریوں کا معاملہ ہی نہیں شامل ہونا چاہیئے جو شمالی کوریا کے خیال میں ختم ہو چکا ہے۔ بلکہ مذاکرات میں زمانہ جنگ کی کوریائی جنسی غلام خواتین کے لیے جاپان سے زرِ تلافی کا مطالبہ بھی شامل ہونا چاہیئے۔

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے سفیر سو سے پیونگ نے ایٹمی معاملات کے حوالے سے بیان میں کہا: عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) کے خلاف جب تک امریکہ کی مخاصمانہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی تب تک وہ اپنی ایٹمی سدِ راہ کو مضبوط بنانا “جاری رکھے” گا۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔