جاپان وہیلنگ پابندی سے کنی کترا سکتا ہے، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کی پریشانی

سڈنی: آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے منگل کو ایک سنگِ میل کی حیثیت کے حامل عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ اس کے تحت جاپان انٹارکٹکا میں وہیل شکار روک دے گا، تاہم انہیں ڈر بھی ہے کہ جاپان اس حکم سے کنی کترا سکتا ہے۔

“انتہائی مایوس” ٹوکیو نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرے گا۔ تاہم اس نے مستقبل کے وہیلنگ پروگراموں کے امکان کو رد نہیں کیا۔ نیوزی لینڈ نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ جاپان اس حکم میں کسی سقم کے ذریعے وہی کام دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

“ہمارا کام یقینی بنانا ہے کہ ہم سفارتی بات چیت جاری رکھیں جو انہیں اس راستے پر گامزن ہونے سے باز رکھے۔”

ایک جاپانی وزیر نے منگل کو وہیل شکار کا دفاع کیا اور تیکھے انداز میں بس یہ کہتے کہتے رہ گئے کہ جاپان مزید کیا اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ وہیل شکار کو کچھ لوگ اہم ثقافتی رسم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جی جی پریس کے مطابق وزیر نے کہا، “ہم اس فیصلے کا جائزہ لیں گے اور تیزی سے (اٹھائے جانے والے اقدامات پر) غور کریں گے”۔ جاپان ایک ساحلی وہیل شکار پروگرام بھی چلاتا ہے جس پر یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔