کیوشو الیکٹرک حکومتی امداد مانگنے والا دوسرا ایٹمی آپریٹر بن گیا

ٹوکیو: کیوشو الیکٹرک پاور کو اس ہفتے سرکاری امداد مانگنے والی دوسری ایٹمی بجلی ساز کمپنی بن گئی۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں ایٹمی ری ایکٹر بند ہیں اور فوکوشیما ایٹمی حادثے کے تین برس بعد ایٹمی صنعت کے خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کیوشو الیکٹرک ایک علاقائی اجارہ دار کمپنی ہے جو جنوبی جاپان کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ اس نے بدھ کو کہا کہ وہ مالی پشت پناہی کے لیے سرکاری ملکیتی ڈویلپمنٹ بینک آف جاپان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ منگل کو ایک ذریعے نے کہا کہ ہوکائیدو الیکٹرک پاور کو نے بھی اسی بینک سے مالی معاونت کے لیے کہا ہے۔ یہ کمپنی جاپان کے انتہائی شمالی جزیرے کو بجلی فراہم کرتی ہے۔

جاپان کے تمام 50 ایٹمی ری ایکٹر سخت حفاظتی جانچ پڑتال تک بند کیے ہوئے ہیں۔ مارچ 2011 میں فوکوشیما ایٹمی کمپلیکس پر سونامی ٹکرانے کے بعد سے یہی صورتحال ہے۔

ایک ذریعے نے کہا، کیوشو الیکٹرک بینک سے کہہ رہی ہے کہ وہ کمپنی میں 100 ارب ین کے ترجیحی حصص خریدے۔

اگر کیوشو الیکٹرک اور ہوکائیدو الیکٹرک مالی معاونت حاصل کرتی ہیں۔ تو وہ تباہ حال فوکوشیما پلانٹ کے آپریٹر ٹوکیو الیکٹرک پاور کو (ٹیپکو) کے ہمراہ جا کھڑی ہوں گی۔ جو بذاتِ خود سرکاری بیل آؤٹ وصول کر رہی ہے۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔