سڈنی: جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان قریبی دفاعی تعلقات پر علاقائی سپر پاور چین میں خدشات پیدا نہیں ہونے چاہئیں یہ بات وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے منگل کو کہی۔ قبل ازیں انہوں نے ٹوکیو کے ساتھ ایک بڑے تجارتی معاہدے اور سلامتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
کینبرا اور ٹوکیو نے پیر کو ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت تجارتی اور سلامتی تعلقات بڑھائے جائیں گے۔ اس میں دفاعی ساز و سامان کی مشترکہ تیاری، اور دو طرفہ تعلقات کو ایک نئے درجے تک لے جانا بھی شامل ہے۔
ایبٹ نے آسٹریلیا میں قومی ریڈیو کو بتایا کہ وہ چین اور دیگر ممالک کے درمیان تنازعات میں کوئی جانبداری اختیار نہیں کر رہے۔ اور جاپان کے ساتھ بڑھا ہوا تعلق کسی اور کو ہدف بنانے کے لیے نہیں ہے۔
ایبٹ نے نوٹ کیا کہ آسٹریلیا اور جاپان کے درمیان پہلے ہی اعلی درجے کا دفاعی تعاون موجود ہے۔ یاد رہے کہ جاپان چین کے ساتھ علاقائی تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، آسٹریلیا اور جاپان کی افواج مشترکہ مشقیں منعقد کرتی ہیں اور جاپان نے قبل ازیں آسٹریلیا سے کچھ دفاعی سامان بھی خریدا تھا۔ ان میں بش ماسٹر بکتر بند ترسیلی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔
آسٹریلوی میڈیا نے مجموعی معاہدے کو ایک تجارتی بریک تھرو قرار دے کر اس کا خیر مقدم کیا۔ تاہم کچھ نے دفاعی معاملات میں ملوث حساسیت کی جانب توجہ دلائی۔