جاپان میں مسجد کے معاملے کو نپٹانے کے لئے پاکستانیوں کا اجتماع

جاپان میں مسجد کے معاملے کو نپٹانے کے لئے پاکستانیوں کا اجتماع
انیس اپریل دوہزار پندرہ ، یہاں اباراکی کین کے شہر باندو میں واقع مسجد المصطفے کے معاملے کو نپٹانے کے لئے ایک بڑے اجتماع کو دیکھنے کا موقع ملا ،۔
یہ مسجد جاپان کی پاکستانی کمیونٹی کی مدد اور کوشش سے بنائی گئی ، جس کا انتظام پاکستان میں موجود ایک ادارے منہاج القران  نے سنبھال لیا تھا ،
سالہا سال یہاں ادارے کے منتخب امام ہی امامت کا کام کرتے رہے ، ادارے کے نامزد امام ، یہاں  جاپان سے چندہ وغیرہ کر کے پاکستان بھیج دیا کرتے تھے ۔
مسجد کی انتظامیہ میں پاکستان کے ہر علاقے پنجاب ، سرحد اور سندہ سے لوگ شامل تھے  ۔
پچھلے سال  سال پاکستان سے ایمپورٹ کئے گئے  امام ، شکیل ثانی نامی بندے کے روئے سے مقامی لوگ خوش نہیں تھے ، جب اس امام کی توجہ اس طرف دلائی گئی تو شکیل نامی یہ امام شرارت پر اتر  ایا ، اور اس کی پشت پناہی کے لئے کچھ شر پسند لوگ  بھی میدان میں آ گئے ۔
مارچ دوہزار پندرہ میں ایک جمعہ کے روز اس مجسد میں یہ واقعہ بھی دیکھنے میں آیا کہ
جب لوگ نماز کے لیئے کھڑے ہوئے تو
شکیل  ثانی امامت کے لئے مصلے پر کھڑا ہو گیا ۔
مسجد میں موجود درجنوں نمازی  صفیں چھوڑ کر کھڑے ہو گئے ، جس پر یہ نماز  صرف دو اشخاص ، شکیل ثانی امام اور ایک ملک  نامی کسی بندے نے پڑہی ۔
جب  شکیل ثانی کی امامت میں دو اشخاص کی یہ جماعت ختم ہوئی تو
دوسری نماز  مجید مغل صاحب کی امامت میں ادا کی گئی ، جس نماز میں شکیل ثانی اور اس کا ایک مقتدی  شامل نہیں تھے ۔

اسی طرح کے الجھے  ہوئے معاملات  کی ایک تکرار تھی جس کو اج لکھنے کا وقت نہیں ہے
۔ اخر کار معاملہ عدالت میں لے جایا گیا
عدالت نے ، حکم دیا کہ م لوگ مل کر اس بات کا فیصلہ کر لو کہ  مسجد ادارے کے کنٹرول میں رہے گی یا کہ  جاپان میں مقیم  پاکستانی کمیونٹی کے کنٹرول میں ہونی چاہئے ۔
اس الیکشن کے لئے ووٹ اکھٹھے کرنے کی اخری تاریخ اکتیس مارچ تھی اور الیکشن  کی تاریخ انیس اپریل رکھی گئی ۔
انعام الحق ، صالح ،اسحق نیشی ، اور نعیم خان لوگ ، مسجد کو جاپان مقیم پاکستانیوں کے کنٹرول میں رکھنے کے لئے سرگرم ہوئے  ۔
انہوں نے اکتیس مارچ تک کوئی تین ہزار لوگوں کے ووٹ اور ممبر شپ لسٹ بنا لی ۔
دوسری طرف  شکیل اینڈ کمپنی نے کسی بھی لسٹ یا ممبر شپ کی بجائے ،مختار نامے اکٹھے کر لئے ۔
انیس اپریل کو ، مقامی کمیونٹی کے حامی لوگوں کی آواز پر سینکڑوں لوگ جاپان بھر سے ،باندو شہر میں اکٹھے ہو گئے ، جبکہ شکیل نامی لوگوں کی حمایت میں بھی  کوئی بیس سے پچیس لوگ پہنچ گئے ۔
اس بات کا جھگڑا رات گئے تک چلتا رہا کہ ، کسی کے ساتھ لوگوں کی حمایت زیادہ ہے ۔IMG_1321 IMG_1322 IMG_1323 IMG_1320 IMG_1316 IMG_1317 IMG_1318 IMG_1319

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔