گائیجن والدین کے جاپان برتھ بچے کے متعلق ۔

Khawar khokhar

خاور کھوکھر

ڈیسک رپورٹ : جاپان میں پیدا ہونے والے بچے کی والدین اگر غیر جاپانی ہیں تو اس بچے کو جاپانی کی نیشنلٹی نہیں ملے،۔ کیونکہ جاپان برتھ پلیس کی وجہ سے نیشنلٹی والے اصول کو نہیں اپناتا ہے ،۔
غیر جاپانی والدین وہ وہ بچہ جو جاپان میں پیدا ہوتا ہے ، اگر وہ بچہ اپنی پیدائش کے بعد 60 دن کے اندر جاپان چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اپ کو کچھی بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،۔
لیکن اگر اپ جاپان میں مقیم ہیں تو اپ کے بچے کو بھی وہی اسٹیٹس ملے گا جو کہ اپ کے ویزے کا اسٹیٹس ہے ،۔
اور بچے کی پیدائیش کے بعد بچے کے جاپان میں قانونی قیام کے لئے اپ کو کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے ،۔
اگر والدین کا اسٹیٹس ایجوکین کا ہے تو بچے کے لئے ایجوکین اپلائی کریں گے (انسپکٹر کی صوابدہ پر کم مدت کا ویزہ بھی مل سکتا ہے) ،۔
اور اگر والدین کا سٹیٹس ویزے کا ہے تو ویزہ اپلائی کریں گے ،۔
ویزے کے لئے کرنے والے ضروری اقدامات!،۔
جو کہ والدیں کو فوری اور ضروری کرنا ہوں گے ورنہ بچہ جاپان میں اوّر سٹے ہو جائے گا ،۔
نمبر ایک : چبے کی پیدائیش کے چودہ دن کے اندر اندر سٹی ہال جا کر بچے کی پدائش کو رجسٹر کروائیں ،۔
یہاں تین کاغذات ضرور وصول کریں ،۔
ا : برتھ رجسٹر کی رسید
ب: ریذیڈنس سرٹیفکیٹ (جیومین ہیو) جس میں سارے خاندان کا انداج ہو ۔
ت : اپنا رہائیشی ٹیکس کا سرٹیفکیٹ (شی مین زے نوزے شومین ) ،۔
نمبر دو : اپنے سفارت خانے جائیں ۔
جہاں بچے کی پیدائش کی اطلاع اور برتھ سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ بنوانے کا کام کریں ،۔
نمبر تین : ایمگریشن افس جائیں اور بچے کے ویزے کے لئے اپلائی کریں ،۔
یہاں بہت ضروری بات یاد رکھنے کہ یہ ہے کہ
اپ کو یہ سارے کام بچے کی پیدائیش کے بعد تیس دن کے اندر اندر کرنے ہیں م،۔
ورنہ اپ بہت سی دشواریوں میں گھر جائیں گے ،

1 comment for “گائیجن والدین کے جاپان برتھ بچے کے متعلق ۔

  1. August 20, 2017 at 15:41

    اس پوسٹ پر انور میمن Anwer Memon کا کومنٹ کاپی پیسٹ کیا جارہا ہے ،۔ کہ ایڈمن کے خیال میں مندرجہ ذیل معلومات بھی اہم ہیں ،۔

    بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ یا آسٹریلیا وغیرہ جیسے (بنیادی طورپر سو ڈیڑھ سو سال قبل مہاجروں پر مشتمل) ممالک کی طرح جاپان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ جاپانی قومیت کا حقدار ہے۔ ان کی معلومات کے لیے آپ کی یہ کاوش اچھی ہے۔ لیکن چند نکات پیش ہیں۔
    سب سے پہلی بات تو یہ کہ یہ پوسٹ اردو میں ہے، اس لیے آپ کو ’غیرملکی والدین‘ کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا۔ جاپانی میں درست لفظ گائی کوکو جن ہے، جبکہ ’گائی جن‘ ایک متعصبانہ لفظ ہے، جس کے ٹی وی یا اخبارات میں استعمال پر بھی پابندی ہے۔
    دوسری بات بچے کو والدین کے مماثل ویزہ ملنے کی۔ اگر والدین ’ایجُوکین‘ (مستقل رہائش کا ویزہ) رکھتے ہیں تو پیدائش کے 30 دن کے اندرامیگریشن میں اسے رجسٹر کروانے کی صورت میں اسے فوراّ ہی ایجُوکین مل جائے گا۔ لیکن اگر 30 دن گزرنے کے بعد اور 60 دن کے اندر رجسٹر (امیگریشن میں) کروائیں گے تو اسے صرف ایک سال کا ویزہ ملے گا۔ اس کے بعد تجدید کی صورت میں بھی بعض اوقات مزید ایک بار اور بعض اوقات کئی بار ایک سال کا ویزہ ملنے کے بعد 3 سال کا ویزہ ملے گا۔ اس کے بعد جاکر ایجُوکین کے لیے درخواست دی جا سکے گی۔ یعنی بچے کو براہ راست مستقل رہائش کا ویزہ (پی آر یا ایجوکین) صرف 30 دن کے اندر رجسٹر کروانے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے۔ 60 دن کے اندر رجسٹر کروانے کی صورت میں ایک سال کا ویزا ملے گا۔ اور 60 دن تک بھی رجسٹر نہ کروانے کی صورت میں بچہ اوور اسٹے یعنی جاپان میں غیر قانونی قیام کا مرتکب قرار پائے گا۔ اور چونکہ یہ بچے کی نہیں بلکہ والدین کی غلطی ہے، اس لیے بچے کے بالغ ہونے سے قبل اس کا انکشاف ہونے کی صورت میں بچے کو والدین سمیت (امیگریشن حکام کی صوابدید پر) ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ خاور صاحب کی اہلیہ جاپانی ہیں اس لیے ان پر ان قوانین کا اطلاق مختلف طور پر ہوگا۔ شاید اسی لیے انہیں 30 دن اور 60 دن والے معاملے میں کوئی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ مجھے زیادہ درست معلومات اس لیے حاصل ہیں کہ ہم دونوں میاں بیوی غیر ملکی ہیں، اور ہم نے جاپان کی نیشنلٹی نہیں لی ہوئی۔
    یہ معلومات اپنی بچی کی پیدائش کے بعد اسے رجسٹر کرواتے وقت میں نے خود امیگریشن حکام سے لی ہیں۔
    نوٹ : یہ باتیں امیگریشن میں رجسٹر کروانے سے متعلق ہیں۔ اس سے قبل مقامی بلدیاتی دفتر میں رجسٹریشن کروانے اور ضروری دستاویزات کے بارے میں خاور کی دی گئی معلومات بالکل درست ہیں۔

    ایک نکتہ اور۔
    بچے کو مستقل یا کچھ عرصے کے لیے جاپان سے باہر لیجانے (وطن کی سیر وغیرہ) کے لیے یقیناً پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی، جو اپنے ملک کا سفارتخانہ ہی دے گا۔
    لیکن اب امیفریشن کے نئے قواعد کے تحت بچے کی امیگریشن میں رجسٹریشن سے قبل پاسپورٹ بنوانے کی شرط ختم ہو چکی ہے۔ اگر پاسپورٹ کے چکر میں 30 دن گزر جانے کا خدشہ ہے تو پہلے امیگریشن میں رجسٹر کروالیں۔ پاسپورٹ بعد میں بھی بن سکتا ہے۔ کیونکہ اب جاپان میں پاسپورٹ پر ویزے کی مہر صرف سیاحوں یا کچھ دنوں کے لیے آنے والوں کے لیے ہی ہے۔ جاپان میں رہنے والے افراد اور ان کے بچوں کے لیے امیگریشن کا جاری کردہ رہائشی کارڈ پاسپورٹ پر مہر کا متبادل ہے۔

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔