مشتاق قریشی کی شاعری

خود کشی یا نسل کشی

آپریشن راھ نجات ہے جاری

سرحد میں گھس آئے معلون

آگ دھن کی هو رہی بارش

سوچتا هوں کہاں جائے پختون

ری ایکشن

نیم حکیم خطرھ جان سے لے بیٹھا دوا

کیا خبر تھی اسے ری ایکشن هو جائے گا

چند سیانوں کو بلایا تھا مشورھ کے لیے

کیا پته تھا سب کو اتنا ٹینشن هوجائے گا

اشتہارات نیٹ

آدمی گر کچھ  نهیں هوتا بنا دیتا  ہے نیٹ

جو نہیں دیکھا کبھی وھ بھی دکھا دیتا ہے نیٹ

اشتهاری  هونا شرط اوّلین  ہے زمین نیٹ پر

خود بخود پھر اسمان  پر بیٹھا دیتا ہے نیٹ

جناب مشتاق قریشی صاحب کی شاعری ، جاپان سے ان کی شاعری معیارکی کن بلندیوں پر ہے اس کا فیصله قارئین پر ، ہاں ان کی شاعری کے نیچےکومنٹس والے خانے میں آپ ان کو داد یا جو بھی آپ دینا چاہیں دے سکتےهیں ، یه سائیٹ غیر جانبدار ہے لکھاری اور قاری کا معامله خود طے کرلیں ـ

سائیٹ شاعر کے خیالات کے افکٹس اور انفکٹس سےبلکه سائیڈ ایفیکٹس سےبھی بری ذمه ہے

1 comment for “مشتاق قریشی کی شاعری

  1. November 18, 2009 at 05:02

    جہاں تک ہمیں معلوم هے نسل کشی کا معنے کسی کی نسل کو بڑھانے کے لیے استعمال هوتا ہے جیسا که جانورں کی نسل کشی
    اور اشتہاری کا لفظ تو جی انگریزی کے وانٹنڈ کے طور پر استعمال هوتا هے
    اور اگر جاپان ميں اشتہاری هیں تو وھ جیل میں کیوں نهیں هیں ؟؟

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔