کیا پاکستان ایسوسی اایشن جاپان کے الیکشن پاکستان کے الیکشن سے زیادہ مشکل ہیں …..؟ تحریر ۔ راشد صمد خان

rashid-samad-3I AM THE ELECTION COMMISSION I WILL DELIVER IT
یہ وہ گونج تھی جوتھوڑا عرصہ پہلے  پاکستان کے سفارت خانہ کے وسیع ہال میں  گونجی تھی اور لگتا تھا کہ بات میں  کوئی دم ہے۔
اور اس دفعہ تو پاکستان ایسوسی ایشن کا  الیکشن کرانے کا دعویٰ کرنے والے اس کو عملی جامعہ پہنا کرہی  دم لیں  گے۔
لیکن  نہ جانے کیا ہوا کہ نئے سفیر صاحب کے آتے ہی جہاں  عام پبلک کے لیے سفارت خانے کے دروازے بند کر دیئے گئے وہیں  پاکستان ایسوسی ایشن کے الیکشن کے غبارے میں  سے ایسی ہوا نکالی گئی کہ ابھی تک لوگ اسے سمجھ نہیں  پائے کہ چھاتی تان کر اور بھرپور انداز میں  یہ کہنے والے
I AM THE ELECTION COMMISSION I WILL DELIVER IT
کو آخر کونسا سانپ سونگایا گیا ہے کہ  نڈر
اوردبنگ  الیکشن کمیشنرکو چپ لگ گئی  یا انھیں  اندازہ نہ  تھا کہ یہ کمیونٹی اس قابل ہی نہیں  ہے کہ اس کے لئے کچھ کیا جائے  الیکشن کا خود ساختہ اعلان اور  تاریخ میں خود ساختہ توسیع ان تمام امیدواروں  کے منہ پر تماچہ تھا جو اس ایسوسی ایشن کے انتخاب  میں  حصہ لے رہے تھے  ۔
کمیونٹی کے زیادہ تر لوگ انتخاب میں  حصہ  لینے والے صاحبان  کو سفارت خانہ کی کٹ پتلیاں  سمجھ رہے تھے اور یہاں  تک کے  انھیں  سفارت خانے کے ایجنٹ تک کے القاب  سے  نوازا گیا ۔  تمام خود ساختہ  فیصلے کرنے کے بعد امید واروں  کا اجلاس بلانا وہ بھی امیدواروں  کے غصے اور اسرار کے بعد ایسا ہی تھا جیسے گونگلوں  سے مٹی جھاڑنا ۔ آخر یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت پڑی ….؟
آخر کیوں ہمارے سابقہ سفیرِ پاکستان کو  جاتے جاتے یہ سوجھی  کہ الیکشن کرائے جائیں  ….؟  مجھے تو اس وقت بھی بڑا تعجب ہوا تھا جب سابق سفیرِ پاکستان نے اپنی الوادعی پارٹی میں  ایسی باتیں  کیں  جو انھیں  نہیں  کرنی چائیں  تھیں  اور اس پر الیکشن کا اعلان ” مرئے پر سو درے” ۔
کیا یہ سب کچھ کرنا نئے سفیر کے لئے  چیلنج سے کم نہیں  تھا …؟ ۔ راقم نے کبھی کوشش نہیں  کی کہ وہ کسی تنظیم کا صدر بنے الٹے سیدھے وعدے کر کے اپنے آپ کو لیڈر ثابت کرے راقم کی کوشش ہمیشہ یہ ہی رہی ہے کہ جو کام کیا جائے پاکستان اور اس کی بھلائی کے لئے کیا جائے۔ جاپان میں  پاکستانی کمیونٹی کو پرموٹ کیا جائے اور آج تک جو بھی کام کیا پاکستان کے لئے کیا نہ کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے  اور آیندہ بھی پاکستان کے لئے کام کرتے رہیں  گے  ۔
لیکن ایک بات جو بہت زیادہ دکھ دیتی ہے  وہ  یہ ہے کہ جب  کچھ لوگ کمیونٹی سے کھیلتے ہیں  ان کا مذاق اڑاتے ہیں  ۔ میرا الیکشن میں  حصہ لینا اسی لئے تھا کہ اس دفعہ الیکشن ہونے چائیں  اور کمیونٹی کے ساتھ مذاق کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ لیکن الیکشن  کرانے کا دعویٰ کرنے والے بھی کمیونٹی سے مذاق کر گئے تکلیف تو ہوتی ہے نا  ۔ ۔ ۔ اب  جب کے الیکشن کمیشن نے واپسی کی ٹکٹ کٹا لی ہے اور وہ کچھ روز میں  جاپان بدر ہو جائیں  گے کیا ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں  کہ جو وعدہ کیا تھا اس کا کیا ہو گا  ۔۔۔؟
اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو جلد بازی میں  اتنے اہم فیصلے یا اعلانات کیوں کیئے گئے  ۔ تین گھنٹے کی بریفنگ کرنا کیا اپنا اور میڈیا کا ٹائم ضائع کرنا تھا ..؟  کیا اس الیکشن میں  حصہ لینے والے امیدواروں  کی کوئی عزت و وقار نہیں   ..؟  یا جن لوگوں  نے ووٹ رجسٹرڈ کرائے ان کی کوئی اہمیت نہیں ..؟  ۔  مجھے نہ پہلے لگتا تھا اورنہ ہی اب لگتا ہے کہ یہ  الیکش ہونگے ۔یہ جس الیکشن کمیشن  نے اعلان کیا تھا اس کی ناکامی ہے کہ وہ وقت پر الیکشن  نہ کرا سکے بلکے معاملے کو ٹھندا کرنے کے لئے اس میں  توسیع کر دی گئی  یعنی کہ کمیونٹی سے فراڈ کیا گیا۔  لیکن اتنا وقت  گزرنے کے باوجود آج بھی لوگوں  کو یاد ہے اور وہ  تین گھنٹے کی نہ سہی پندہ منٹ کی بریفنگ کے منتظر ہیں   ۔جس میں  صرف اتنا ہی بتا دیا جائے کہ الیکشن ہونگے کے نہیں ..؟  اگر نہیں  ہو رہے تو ان کی کیا وجو ہات ہیں ..؟
وقت پر انتخابات کیوں  نہیں  کرائے گئے بار بار اس میں  توسیع کیوں  کی گئی  الیکشن کو منسوخ کیوں  کیا جا رہا ہے …؟  اور اگر ان سب چیزوں  پر مٹی پانی ہے تو صاحب بہادر، الیکشن کمیشن سے ایک چھوٹی سی معافی تو بنتی ہے کمیونٹی کے نام۔
لیکن ایک چیز کا احساس مجھے ہو رہا ہے کہ ہم پاکستانی کمیونٹی نے مستقل جاپان میں  ہی رہنا ہے کیا ہم لوگ اُن لوگوں  سے زیادہ بہتر فیصلے نہیں  کر سکتے  جو صرف دو سال کی ملازمت پر عارضی طور پر نوکری کے لئے آتے ہیں   ۔  جاپان میں  مقیم تمام پاکستانیوں  کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ان میں  اتنی صلاحیت بھی نہیں  ہے کہ وہ  متحد ہو کر کوئی ایک قومی تقریب ہی کرا دیں  ۔  کمیونٹی کو متحد ہونے کی ضرورت ہے  سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی کی خوشنودی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آنالازمی ہے تاکہ کوئی بھی کمیونٹی پر غلط فیصلے مُسلّط نہ کر سکے  ۔
،  تحریر  ۔ راشد صمد خان

آپ کومنٹ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔